10

انسانی خون کے 98.8 فیصد نمونوں میں ’’دیرپا کیمیکلز‘‘ کی موجودگی کا انکشاف، تحقیق

امریکا میں ہونے والی ایک نئی تحقیق میں انکشاف ہوا ہے کہ تقریباً 98.8 فیصد خون کے نمونوں میں “دیرپا کیمیکلز” پائے گئے ہیں۔

امریکا میں کی جانے والی ایک نئی تحقیق نے انسانی صحت سے متعلق تشویش ناک صورتحال کو اجاگر کیا ہے جس کے مطابق انسانی خون میں ’’دیرپا کیمیکلز‘‘ (پی ایف اے ایس) بڑی سطح پر موجود پائے گئے ہیں۔

یہ کیمیکلز سائنسی طور پر Perfluoroalkyl اور Polyfluoroalkyl Substances کہلاتے ہیں جو اپنی خصوصیات کی وجہ سے پانی، تیل اور حرارت کے خلاف مزاحم ہوتے ہیں۔

اسی وجہ سے انہیں عام طور پر ’’دیرپا کیمیکلز‘‘ کہا جاتا ہے کیونکہ یہ ماحول میں طویل عرصے تک موجود رہتے ہیں اور آسانی سے ختم نہیں ہوتے۔

امریکی ریاست پینسلوانیا کی لیبارٹری این ایم ایس لیبز کے محققین نے 10,566 خون اور پلازما کے نمونوں کا تجزیہ کیا۔ نتائج کے مطابق 98.8 فیصد نمونوں میں کم از کم ایک پی ایف اے ایس کیمیکل موجود تھا جب کہ صرف 0.18 فیصد میں ایک ہی کیمیکل پایا گیا۔

تحقیق میں یہ بھی سامنے آیا کہ زیادہ تر افراد کے خون میں ایک سے زائد پی ایف اے ایس کیمیکلز کا مرکب موجود ہے جو مختلف ذرائع سے انسانی جسم میں داخل ہورہے ہیں۔

ماہرین کے مطابق یہ کیمیکلز صنعتی مصنوعات جیسے کپڑے، فرنیچر، چپکنے والے مواد اور فوڈ پیکیجنگ میں بڑے پیمانے پر استعمال ہوتے ہیں جس کے باعث یہ پانی، خوراک اور ماحول کے ذریعے انسانی جسم تک پہنچ جاتے ہیں۔

سب سے زیادہ پایا جانے والا کیمیکل پی ایف ایچ ایکس ایس تھا جو 97.9 فیصد نمونوں میں موجود پایا گیا۔ یہ کیمیکل جگر اور مدافعتی نظام پر منفی اثرات سے منسلک سمجھا جاتا ہے اور کئی ممالک میں اس پر پابندیاں بھی عائد کی جاچکی ہیں۔

تحقیق کے مطابق اصل تشویش اس وقت پیدا ہوتی ہے جب مختلف پی ایف اے ایس کیمیکلز ایک ساتھ انسانی جسم میں موجود ہوں کیونکہ ان کے ممکنہ مشترکہ اثرات زیادہ خطرناک ہوسکتے ہیں۔

رپورٹ میں واضح کیا گیا کہ یہ مطالعہ صرف کیمیکلز کی موجودگی کو ظاہر کرتا ہے، ان کی مقدار یا براہ راست نقصان کی شدت کو نہیں تاہم پہلے کی تحقیقات میں ان کیمیکلز کو مختلف صحت کے مسائل جیسے کینسر، دماغی تبدیلیوں اور مدافعتی کمزوری سے جوڑا گیا ہے۔

ماہرین کا کہنا ہے کہ پی ایف اے ایس کیمیکلز کا سب سے بڑا مسئلہ ان کا ماحول میں دیر تک برقرار رہنا ہے جس کی وجہ سے یہ مسلسل انسانی جسم میں شامل ہوتے رہتے ہیں۔

تحقیق میں یہ بھی بتایا گیا کہ اب تک 70 سے زائد مختلف کیمیکل کمبینیشن انسانی خون میں پائے جاچکے ہیں جو اس مسئلے کی سنگینی کو مزید واضح کرتے ہیں۔

اس خبر پر اپنی رائے کا اظہار کریں

اپنا تبصرہ بھیجیں