9

ایم 77 کہکشاں کے مرکز میں پوشیدہ ساخت دریافت، سائنسدان حیران

ایم 77 کہکشاں کے مرکز میں پوشیدہ ساخت دریافت، سائنسدان حیران

یہ مشاہدات جدید ترین خلائی دوربین کے ذریعے کیے گئے جس نے گرد و غبار کے پیچھے چھپے کہکشانی مرکز کو نمایاں کردیا۔

جدید خلائی دوربین نے ’’ایم 77 کہکشاں‘‘ کے مرکز میں چھپی حیران کن ساخت دریافت کرلی۔

کائنات کے راز جاننے کے لیے استعمال ہونے والی جدید خلائی دوربین نے ایک اور اہم کامیابی حاصل کرلی ہے۔ سائنسدانوں نے ایم 77 کہکشاں کے مرکز میں ایسی پوشیدہ ساخت دریافت کی ہے جو پہلے کبھی واضح طور پر نہیں دیکھی گئی تھی۔

یہ مشاہدات جدید ترین خلائی دوربین کے ذریعے کیے گئے جس نے گرد و غبار کے پیچھے چھپے کہکشانی مرکز کو نمایاں کردیا۔

یہ کہکشاں زمین سے تقریباً ساڑھے تین کروڑ نوری سال دور واقع ہے اور اپنے انتہائی روشن مرکز کی وجہ سے ماہرین فلکیات کی خصوصی توجہ کا مرکز رہی ہے۔

سائنسدانوں کے مطابق اس کہکشاں کے وسط میں ایک نہایت طاقتور دیوقامت سیاہ شگاف موجود ہے جو اپنے گرد موجود مادّے کو تیزی سے اپنی طرف کھینچ رہا ہے۔

ماہرین کو طویل عرصے سے اس کہکشاں کے مرکز کا مشاہدہ کرنے میں مشکل پیش آرہی تھی کیونکہ اس کے گرد بڑی مقدار میں گرد و غبار موجود ہے جو عام روشنی میں اندرونی حصوں کو چھپا دیتا ہے۔

تاہم جدید خلائی دوربین نے حرارتی شعاعوں کی مدد سے اس گرد و غبار کے پار دیکھتے ہوئے کہکشاں کے مرکز میں ستاروں، گیس اور گرد کے ایک طویل پٹی نما ڈھانچے کو نمایاں کیا جو پہلے واضح طور پر نظر نہیں آتا تھا۔

تحقیق کے مطابق کہکشاں کے مرکز میں موجود مجموعی کمیت سورج سے تقریباً ایک کروڑ تیس لاکھ گنا زیادہ ہوسکتی ہے۔ سائنسدانوں کا خیال ہے کہ وہاں ایک کے بجائے دو دیوقامت سیاہ شگاف بھی موجود ہوسکتے ہیں جو ایک دوسرے کے گرد گردش کررہے ہیں۔

تصاویر میں کہکشاں کے مختلف حصوں میں نئے ستاروں کی پیدائش کے روشن علاقے بھی نمایاں ہوئے ہیں۔ ماہرین کے مطابق یہ علاقے گیس اور گرد کے دباؤ کے باعث وجود میں آتے ہیں، جہاں وقت کے ساتھ نئے ستارے تشکیل پاتے ہیں۔

تحقیق میں یہ بھی بتایا گیا کہ چند برس قبل اسی کہکشاں کے مرکز سے انتہائی طاقتور توانائی رکھنے والے ذرات کا سراغ بھی ملا تھا جس کے بعد ماہرین نے اسے کائنات کی قدرتی ذرّاتی تجربہ گاہ قرار دیا تھا۔

سائنسدانوں کا کہنا ہے کہ ایسی جدید مشاہداتی ٹیکنالوجی مستقبل میں کائنات، سیاہ شگافوں اور ستاروں کی تشکیل سے متعلق کئی اہم سوالات کے جواب دینے میں مددگار ثابت ہوسکتی ہے۔

اس خبر پر اپنی رائے کا اظہار کریں

اپنا تبصرہ بھیجیں