437

اسرائیل نے غزہ پر 4ہزار ٹن وزنی بم گرا دیے

اسرائیل کا کہنا ہے کہ اس نے غزہ پر 4000 ٹن وزنی 6000 بم گرائے ہیں۔

اسرائیلی فوج نے سوشل میڈیا پر ایک بیان میں کہا ہے کہ اس نے ہفتے کے روز حماس کے حملے کے بعد سے اب تک 4000 ٹن وزنی 6 ہزار بم محصور غزہ کی پٹی پر گرائے ہیں۔

فلسطینی محکمہ صحت حکام کے مطابق بمباری میں اب تک کم از کم 1,417 افراد شہید ہو چکے ہیں جبکہ زخمی فلسطینیوں کی تعداد 6 ہزار 800 سے تجاوز کرگئی ہے۔

محکمہ صحت نے اسرائیل کی طرف سے محصور انکلیو کی “مکمل ناکہ بندی” کی وجہ سے بجلی کی بندش کی مذمت کی ہے اور بین الاقوامی حقوق کے گروپوں سے فوری کارروائی کا مطالبہ کیا ہے کیونکہ “اسپتالوں کے مردہ خانے میں تبدیل ہونے کا خطرہ ہے”۔

اسرائیلی طیاروں سے پمفلٹ گراکر فلسطینیوں کو گھروں سے جانے کی دھمکیاں دی جارہی ہیں، اسرائیلی فضائی حملے میں مزید 4 پیرامیڈیکس اہلکار شہید ہوگئے ہیں۔

واضح رہے کہ اسرائیلی فوج کی جانب سے انسانی امدادی اداروں کی گاڑیوں اور ایمبولینسز کو بھی نشانہ بنایا جارہا ہے جس کے نتیجے میں ریلیف ورکرز اور پیرا میڈیکس کے اب تک 17 رضاکار شہید ہوچکے ہیں۔

غزہ شہر کے مرکزی اسپتال میں جنریٹرز کیلئے صرف چار دن کا ایندھن بچا ہے۔ ہلال احمر کے ترجمان کا کہنا ہے کہ غزہ میں بجلی کی کمی کے باعث اسپتالوں میں بجلی کی فراہمی معطل ہے،غزہ کی پٹی کے واحد بجلی گھر نے ایندھن کی قلت کی وجہ سےگزشتہ روز کام کرنا بند کر دیا تھا۔

اس خبر پر اپنی رائے کا اظہار کریں

اپنا تبصرہ بھیجیں