1

چربی کو توانائی میں بدلنے اور ہڈیوں کی مضبوطی کا نیا نظام

چربی کو توانائی میں بدلنے اور ہڈیوں کی مضبوطی کا نیا نظام

نیا نظام جسم میں توانائی کے استعمال کو بہتر سمجھنے میں مدد دیتا ہے۔

سائنسدانوں نے جسم میں چربی کو توانائی میں بدلنے کے عمل کو کنٹرول کرنے والا ایک نیا نظام دریافت کیا ہے جو مستقبل میں ہڈیوں کی مضبوطی اور مختلف میٹابولک بیماریوں کے علاج میں مددگار ثابت ہوسکتا ہے۔

کینیڈا کی میک گل یونیورسٹی کے محققین کے مطابق یہ تحقیق جسم میں موجود بھوری چربی پر مرکوز ہے جو سفید چربی کے برعکس توانائی ذخیرہ کرنے کے بجائے جسم کو گرم رکھنے کے لیے کیلوریز استعمال کرتی ہے۔

محققین نے بتایا کہ بھوری چربی میں حرارت پیدا کرنے کے دو طریقے ہوتے ہیں جن میں ایک پہلے سے معلوم طریقہ ہے جب کہ دوسرا نسبتاً نیا طریقہ کریٹین سائیکل ہے جس کے فعال ہونے کا طریقہ اب تک واضح نہیں تھا۔

تحقیق کے دوران سائنسدانوں نے چوہوں کو سرد ماحول میں رکھا اور ان کے جسم میں پیدا ہونے والے کیمیکلز کا جائزہ لیا۔ اس عمل کے دوران ایک اہم خامرہ سامنے آیا جسے جسم میں توانائی کے استعمال کے نظام کے لیے بنیادی قرار دیا جاتا ہے۔

تحقیق میں یہ بات سامنے آئی کہ چکنائی سے حاصل ہونے والا ایک جزو اس خامرے کو فعال کرتا ہے جس سے جسم میں چربی کو توانائی میں بدلنے کا عمل تیز ہوجاتا ہے۔

سائنسدانوں نے اس عمل کو سمجھنے کے لیے ہڈیوں کی ایک نایاب بیماری کا بھی جائزہ لیا جس میں ہڈیاں نرم اور کمزور ہوجاتی ہیں۔ اس تحقیق میں ہزاروں افراد کے جینیاتی ڈیٹا کا بھی تجزیہ کیا گیا۔

نتائج سے معلوم ہوا کہ اس نظام میں خرابی ہڈیوں کی کمزوری اور کم توانائی کے استعمال سے جڑی ہوسکتی ہے جو اس خامرے کے اہم کردار کو ظاہر کرتی ہے۔

ماہرین کے مطابق اس دریافت سے ایسی ادویات بنانے میں مدد مل سکتی ہے جو جسم میں اس عمل کو بہتر بناکر ہڈیوں کی مضبوطی بحال کریں اور موجودہ انجیکشن تھراپی کا بہتر متبادل فراہم کریں۔

تحقیق میں یہ بھی بتایا گیا ہے کہ اگرچہ یہ ابتدائی مرحلہ ہے لیکن مستقبل میں یہ دریافت موٹاپے اور ذیابیطس جیسے امراض کے علاج میں بھی اہم کردار ادا کرسکتی ہے۔

سائنسدانوں کے مطابق یہ نیا نظام جسم میں توانائی کے استعمال کو بہتر سمجھنے میں مدد دیتا ہے اور مستقبل کی طبی تحقیق کے لیے نئے راستے کھول دیتا ہے۔

اس خبر پر اپنی رائے کا اظہار کریں

اپنا تبصرہ بھیجیں