جنوبی کوریا میں سائنسدانوں نے ایک شہابِ ثاقب کے ٹکرانے سے بننے والے گڑھے کے نیچے قدیم مائیکروبیل زندگی کے آثار دریافت کیے ہیں جو زمین پر زندگی کے آغاز سے متعلق نئی معلومات فراہم کرسکتے ہیں۔
ماہرین کے مطابق یہ دریافت ایک ایسے گڑھے میں ہوئی ہے جو ہزاروں سال قبل ایک بڑے شہابِ ثاقب کے ٹکرانے سے وجود میں آیا تھا۔ اس گڑھے کے نیچے ایسے ڈھانچے ملے ہیں جو قدیم خردبینی جانداروں کی سرگرمیوں سے بنتے ہیں اور انہیں زمین پر زندگی کے قدیم ترین شواہد میں شمار کیا جاتا ہے۔
تحقیق کرنے والی ٹیم کے مطابق شہابِ ثاقب کے ٹکرانے سے پیدا ہونے والی شدید حرارت نے زمین کے اندر ایک ایسا ماحول بنایا جو گرم پانی کے چشموں کی طرح تھا۔ اس ماحول میں خردبینی جانداروں کے زندہ رہنے اور بڑھنے کے امکانات موجود تھے۔
سائنسدانوں کا کہنا ہے کہ ایسے گڑھے ابتدائی زمین پر زندگی کے لیے عارضی مگر موزوں مقامات فراہم کرسکتے تھے، جہاں مختلف مائیکروبیل نظام پروان چڑھتے رہے ہوں گے۔
دریافت شدہ ڈھانچے تقریباً چند سینٹی میٹر سائز کے ہیں اور ان کا تعلق ان قدیم جانداروں سے جوڑا جارہا ہے جو تہہ در تہہ معدنی ساختیں بناتے تھے۔
تحقیق میں یہ بھی سامنے آیا ہے کہ ان ساختوں میں ایسے معدنی عناصر پائے گئے ہیں جو عام طور پر گرم پانی اور زیر زمین حرارتی نظام میں زیادہ حل پذیر ہوتے ہیں جس سے اس بات کی تصدیق ہوتی ہے کہ یہ علاقہ ماضی میں گرم ماحول رکھتا تھا۔
ماہرین کا کہنا ہے کہ اس گڑھے میں ایک وقت میں وسیع پانی کا ذخیرہ موجود تھا جو ممکنہ طور پر ہزاروں سال تک برقرار رہا۔ اسی دوران وہاں مائیکروبیل زندگی کے پنپنے کے شواہد ملتے ہیں۔
سائنسدانوں کے مطابق زمین کے ابتدائی دور میں جب مسلسل شہابِ ثاقب ٹکرا رہے تھے، ایسے گڑھے ممکنہ طور پر زندگی کے لیے محفوظ پناہ گاہوں کا کردار ادا کرتے رہے ہوں گے۔
تحقیق میں یہ بھی اشارہ دیا گیا ہے کہ ایسے ماحول میں آکسیجن پیدا کرنے والے ابتدائی جانداروں نے زمین کی فضا کو تبدیل کرنے میں کردار ادا کیا ہوگا جس سے بعد میں زندگی کے ارتقا کی راہ ہموار ہوئی۔
ماہرین بتاتے ہیں کہ یہ دریافت اس بات کی طرف بھی اشارہ کرتی ہے کہ اگرچہ زمین پر زندگی کی ابتدا ابھی مکمل طور پر سمجھ نہیں آئی لیکن شہابی اثرات اور قدرتی ماحول نے اس عمل میں اہم کردار ادا کیا ہوگا۔
سائنسدانوں کا مزید کہنا ہے کہ اس طرح کے مزید مقامات کی تلاش سے زمین اور ممکنہ طور پر دیگر سیاروں پر زندگی کے آغاز کے بارے میں اہم راز سامنے آسکتے ہیں۔




