ہر سال کی طرح اس سال بھی لاکھوں فرزندان توحید حج کی نیت سے مکہ مکرمہ میں موجود ہیں ۔حج دین اسلام کا آخری اورپانچواں بنیادی رکن ہےجوہر صاحب حیثیت پر زندگی میں ایک بار فرض ہے۔
مصرکی مستقل کمیٹی برائے علمی تحقیق اورافتاء کے مطابق نبی کریم صل اللہ علیہ وصلم نے سنہ 9 ہجری میں مسلمانوں پرحج فرض ہونے سے متعلق حکم الہی صادر فرمایاتھا۔
مصری افتاء کونسل کی تحقیق میں کہا گیا ہے کہ جب نو ہجری میں حج کا وقت آیا تو رسول اللہ صلی ﷲ علیہ وآلہ وسلم نے حضرت ابوبکر صدیق رضی اللہ عنہ کو امیر حج بنا کر بھیجا،مسلمانوں کا یہ پہلا حج تھا اورجس میں تین سو مسلمانوں نے فریضہ حج ادا کیاتھا۔
آقا دوجہاں نبی کریم صل اللہ علیہ وصلم نے سن دس ہجری میں حج ادا کیا جسے حجتہ الوداع کہاجاتاہے۔وہ دن اور آج تک دنیابھر سے فرزندان توحید حکم خداوندی پرمناسک حج کرنے سرزمین عرب پہنچتے ہیں۔ہم میں اکثر یہ معلوم کرنا چاہتے ہیں۔
سن نوہجری سے 1447ہجری تک کتنے مسلمان حج کی سعادت حاصل کرسکے ہیں ، یہ مشکل کام ہے لیکن ہم نے 1947سے دوہزار چھبیس تک 79 سال میں کتنے مسلمانوں نے فریضہ حج ادا کیا ہے۔یہ تعداد روزنامہ جنگ میں شائع خبروں سے جاننے کی کوشش کی ہے۔
1947سے 2026 گزشتہ 79 سال کاجائزہ لیتے ہیں تو معلوم ہوتا ہے 1947سے 70 کی دہائی تک حاجیوں کی اکثریت سعودی عرب اورقرب وجوار کے عرب ریاستوں سے تھی ۔جس کی وجہ محدودسفری سہولیات اور سعودی حکومت کی حجاج کرام کی خدمت کرنے کی صلاحیت تھی ۔
قیام پاکستان کے پہلے برس اکتوبر 1947میں دنیابھر سے ڈیڑھ لاکھ مسلمانوں نے حج کیا جس میں پانچ ہزار پاکستانیوں سمیت دیگر ممالک کے ساٹھ ہزار حجاج بھی شامل تھےباقی مقامی تھے۔
دنیا کی تاریخ میں بحثیت مسلم پاکستانی شرکت کرنے والے پانچ ہزارحاجی سفری سہولیات نہ ہونے کے سبب ہندوستانی قافلے کے ہمراہ حج پر روانہ ہوئے تھے۔1947سے 1955 تک نو سال میں مجموعی طور پرپندرہ لاکھ 70ہزار مسلمانوں نے حج کیا ۔1956تعداد میں بڑا اضافہ ہوا اس سال چھ لاکھ بیس ہزار اور 1957میں مزید دس لاکھ حجاج کرام کا اضافہ نوٹ کیا گیا تھا۔
اگلے بارہ سال میں 1969تک یعنی 22 سال میں حاجیوں کی مجموعی تعداد ایک کروڑ اکتالیس لاکھ سترہزار دوسواسی نوٹ کی گئی تھی ۔ سال 1970کے حج میں پہلی بار حاجیوں کی تعداد بارہ لاکھ سال1973میں تعداد میں مزید بیس لاکھ اضافہ ہوا تھا۔اس طرح1947 سے 1980 تک 34 سال میں حاجیوں کی مجموعی تعداد تین کروڑ چالیس لاکھ سترہزار دوسواسی ریکارڈ کی گئی۔
اسی کی دہائی سے حاجیوں کی تعداد میں نمایاں اضافہ نوٹ کیا گیا۔1981وہ سال ہے جب تاریخ میں پہلی بار حاجیوں کی تعداد 25لاکھ نوٹ کی گئ اسی طرح سالانہ تعداد بڑھتے ہوئے 1995میں عازمین کی تیس لاکھ نوٹ کی گئی تھی۔
وقت آگے بڑھتا رہا، دوہزار چوبیس میں ساڑھے اٹھارہ لاکھ 2025میں 16 لاکھ 73 ہزار 230 مسلمانوں نے فریضہ حج انجام دیا ہے۔جب کہ رواں برس 2026 میں توقع ہے کہ قریباً17 لاکھ کے قریب مسلمان فریضہ حج ادا کریں گے۔
اس طرح دنیابھرسے 1947سے 2026 تک79 سال میں مجموعی طور پر 14 کروڑ چار لاکھ پچاس ہزار510 مرد وعورت عازمین نے حج کی سعادت حاصل کی ہے ۔ اسلام دین برحق ہے جو ہمیشہ رہے گااور حج تاقیامت جاری رہے گا۔




