199

Sheikh Akaram Vs Ahamd Ludhanvi Writ Petition

این اے 89 جھنگ 4،سپریم کورٹ نے شیخ اکرم کی اپیل پر فیصلہ محفوظ کر لیا،احمد لدھیانوی نے الیکشن ٹریبونل میں انتخابی عذر داری دائر کی جس میں شیخ اکرم پر الزامات لگائے گئے جو ثابت نہیں ہوئے، مخدوم علی خان، اگر تائید کنندہ کی معلومات ہی غلط ہوں تو بادی النظر میں کاغذات نامزدگی ہی ludhanwi
غلط ہو گئے

 سپریم کورٹ نے قومی اسمبلی کے حلقہ این اے 89 جھنگ 4 محمد احمد لدھیانوی کو کامیاب قرار دینے کے بارے میں الیکشن ٹریبونل فیصلے کے خلاف شیخ اکرم کی اپیل پر فیصلہ محفوظ کر لیاہے۔ جسٹس میاں ثاقب نثار کی سربراہی میں تین رکنی بنچ نے منگل کے روز مقدمے کی سماعت کی جس میں شیخ اکرم کے وکیل مخدوم علی خان نے موقف اختیار کیا ہے کہ ان کے موکل نے مئی 2013ء کے عام انتخابات کے دوران 75 ہزار 53 ووٹ حاصل کئے جبکہ محمد احمد لدھیانوی نے 72 ہزار 320 جبکہ تیسرے امیدوارعبدالغفور جھنگوی انہوں نے صرف 59 ووٹ حاصل کئے۔

میرے موکل کے حوالے سے محمد احمد لدھیانوی نے الیکشن ٹریبونل میں انتخابی عذر داری دائر کی جس میں انہوں نے کہا تھا کہ میرے موکل کے تائید کنندہ عمردراز نے کاغذات نامزدگی جمع کراتے وقت اپنی ولدیت اور شناختی کارڈ نمبر غلط لکھا تھا۔ دوسرا میرے موکل کے خلاف الزام یہ ہے کہ ان کے خلاف ایف آئی آر درج ہے۔ تیسرا اور چوتھا الزام مبینہ طور پر انتخابی بے ضابطگی وغیرہ شامل ہیں۔ مخدوم علی خان کا کہنا تھا کہ جس وقت لدھیانوی نے الیکشن پٹیشن داخل کی تھی انہوں نے اس پٹیشن کے ساتھ نہ تو کوئی بیان حلفی لگایا اور نہ ہی قانون کے مطابق اس کی تصدیق کروائی۔ ہمارے نزدیک تو یہ درخواست سرے سے دائر ہی نہیں ہوئی۔ دوسرا یہ کہ شیخ اکرم کے تائید کنندہ نے نہ صرف الیکشن ٹریبونل میں خود پیش ہو کر اپنی ولدیت درست کروا لی تھی بلکہ اپنے شناختی کارڈ کی کاپی بھی دے دی تھی۔ جس پر جسٹس میاں ثاقب نثار نے کہا کہ اس کا مطلب تو یہ ہے کہ اگر تائید کنندہ کی معلومات ہی غلط ہوں تو بادی النظر میں کاغذات نامزدگی ہی غلط ہو گئے۔ اس پر مخدوم علی خان نے کہا کہ یہ کسی سے بھی غلطی ہو سکتی ہے بہرحال وہ درست کروا دی گئی۔ ایف آئی آر کے حوالے سے بھی انہوں نے وضاحت دی کہ وہ ختم ہو چکی ہے اور ایسا کوئی ریکارڈ موجود نہیں ہے۔ بعد ازاں لدھیانوی کے وکیل طارق محمود نے دلائل دیتے ہوئے کہا کہ جس امیدوار کا تائید کنندہ ہی غلط ہو جس کے خلاف مقدمہ بھی ہو ایسے بندے کو کس طرح کامیاب قرار دیا جا سکتا ہے۔ انہوں نے الیکشن ٹریبونل کے فیصلے کی تائید کی جبکہ ڈاکٹر بابر اعوان بھی پیش ہوئے اور انہوں نے دلائل دیئے۔ عدالت میں انہوں نے کہا کہ عدالت میں جو کچھ بولا جاتا ہے لمحوں میں پوری دنیا میں پھیل جاتا ہے۔ اس پر عدالت نے کہا کہ اس کا ذمہ دار آپ کس کو کہتے ہیں۔ انہوں نے کہا کہ ایک مانسٹر ہے تاہم انہوں نے یہ نہیں بتایا کہ یہ کون ہے۔ بعد ازاں عدالت نے فریقین کے دلائل مکمل ہونے پر فیصلہ محفوظ کر لیا۔

اس خبر پر اپنی رائے کا اظہار کریں

اپنا تبصرہ بھیجیں