190

لاہور کے میو اسپتال میں کورنا کے مریض کے ساتھ انتقال سے قبل انسانیت سوز سلوک

73 سالہ شخص درد کے مارے ساری رات چلایا رہا کسی نے نہ سنی،وینیٹی لیٹر دینے کی بجائے رسیوں سے باندھ دیا گیا

آج لاہور کے میو اسپتال میں کورونا وائرس کا داخل مریض انتقال کرگیا۔تاہم اب کچھ میڈیا رپورٹس میں یہ انکشاف کیا گیا ہے کہ مریض کا انتقال ڈاکٹروں کی غفلت کے باعث ہوا۔بتایا گیا ہے کہ میو اسپتال کے کورونا وارڈ میں داخل 73 سالہ شخص ڈاکٹروں کی غفلت سے دل کا دورہ پڑنے سے انتقال کر گیا۔کورونا وارڈ میں داخل ایک مریض کے بیان کے مطابق انتقال کرجانے والے 73 سالہ مریض کورونا وارڈ میں داخل تھے۔
وہ ساری رات درد سے چلاتا رہے،کسی نے توجہ نہ دی جبکہ مریض کے ہاتھ بھی باندھے گئے تھے۔ان کا مزید کہنا ہے کہ کورونا وارڈ میں داخل دوسرے مریض بھی شور مچاتے رہے لیکن کسی نے ایک نہ سنی۔جبکہ سی ای او ڈاکٹر اسد اسلم کا کہنا ہے کہ میو اسپتال کے کرونا وارڈ میں میں 73 سالہ شخص انتقال کر گیا ،مریض کی ہلاکت دل کا دورہ پڑنے سے ہوئی، مریض صبح واش روم گیا تو دل کا دورہ پڑا تھا۔

سینئر صحافی حامد میر نے بھی اس حوالے سے سماجی رابطے کی ویب سائٹ ٹویٹر پر ٹویٹ کرتے ہوئے سخت تنقید کی ہے۔انہوں نے کورونا وارڈ میں داخل ایک صحافی کا ویڈیو بیان شئیر کیا ہے جس میں وہ انتقال کر جانے والے شخص سے متعلق بتا رہا ہے۔صحافی کا کہنا ہے کہ ہم سارے مریض رات کو ایک پل کے لئے بھی نہیں سو سکے کیونکہ باباجی ساری رات درد کے مارے چلاتے رہے اور انہیں وینٹی لیٹر دینے کی بجائے رسیوں سے باندھ دیا گیا۔

واضح رہے کہ بزرگ شخص میں کچھ دن قبل کورونا وائرس کی تصدیق ہوئی تھی جس کے بعد وہ میو ہسپتال میں زیر علاج تھے۔ اسپتال ذرائع کا کہنا ہے کہ مریض کو کچھ دن قبل اسپتال ایمرجنسی صورتحال میں لایاگیا تھا جس کے بعد اس کے ٹیسٹ میں کورونا وائرس کی تصدیق ہونے کے بعد اسے ہسپتال میں داخل کر دیا گیا تھا۔ ڈاکٹروں کا کہنا تھا کہ معمول کے مطابق واش روم گیا تھا، 20 منٹ تک واش روم سے باہر نہ آیا تو دوسرے مریض نے اند ر جاکر دیکھاتو کورونا کا متاثرہ شخص زمین پر گرا ہوا تھا۔ڈاکٹروں کا کہنا ہے کہ مریض میںکورونا وائرس کنفرم تھا، لیکن اس کی موت ہارٹ اٹیک سے ہونے کا شبہ ہے۔

اس خبر پر اپنی رائے کا اظہار کریں

اپنا تبصرہ بھیجیں