165

کورونا وائرس: بچوں کو کووڈ 19 سے کتنا خطرہ ہے اور کیا وہ وائرس پھیلا سکتے ہیں؟

انگلینڈ میں جلد ہی بچے پرائمری سکولوں میں جانا شروع کر دیں گے لیکن اہم سوال یہ ہے کہ بچوں کا کورونا وائرس کی وبا میں کردار کیا ہو گا؟

بچوں کو کورونا وائرس ہو سکتا ہے مگر اس بات کے امکانات انتہائی کم ہوتے ہیں کہ وائرس کا شکار بننے کے بعد وہ زیادہ بیمار پڑ جائیں۔

یہ بات واضح نہیں ہے کہ وہ اس وائرس کو ایک دوسرے میں یا بالغ افراد میں کس حد تک منتقل کرنے کا باعث بن سکتے ہیں۔

آئیے دیکھتے ہیں کہ ماہرین اب تک اس حوالے سے کیا کچھ جان پائے ہیں۔

کیا بچے بیمار ہوتے ہیں؟
اب تک سامنے آنے والی تفصیلات کے مطابق ہم یہ جان پائے ہیں کہ بڑی عمر کے افراد کورونا وائرس سے ہونے والی پیچیدگیوں کا زیادہ شکار بنتے ہیں۔

انگلینڈ، ویلز اور شمالی آئرلینڈ میں 24 اپریل تک انتہائی نگہداشت کے شعبے میں داخل ہونے والے کورونا متاثرین کی اوسط عمر ساٹھ برس تھی۔

یونیورسٹی آف ویلز میں ماہر امراض بچگان پروفیسر آڈیلیا واریث کہتی ہیں کہ ’تشخیص شدہ کورونا متاثرین میں بچوں کا تناسب ایک سے پانچ فیصد کے درمیان ہے، بالغ افراد کے مقابلے میں ان میں وائرس کی علامات ہلکی نوعیت کی ہوتی ہیں جبکہ اموات کی شرح انتہائی کم۔‘

کیا بچے کورونا وائرس منتقل کر سکتے ہیں؟
اب تک سامنے آنے والی تفصیلات کے مطابق بچوں کا کورونا وائرس کے باعث بیمار ہونے کا خطرہ بہت کم ہے۔ لیکن ایک سوال یہ ہے کہ کتنے بچے اس بیماری کا شکار ہوئے ہیں اور آیا وہ یہ وائرس کس حد تک دوسروں تک منتقل کر سکتے ہیں۔

ابھی تک یہ بھی واضح نہیں کہ کسی مخصوص عمر کے کتنے افراد وبا کا شکار ہیں اور کس حد تک۔

کورونا وائرس بھی عام زکام کی طرح پھیلتا ہے جیسا کہ کھانسی کے ذریعے یا ایسی چیزوں کو ہاتھ لگانے سے جو کھانسی کے ساتھ متاثرہ شخص کے منھ سے نکلنے والے چھینٹوں سے آلودہ ہوں۔ ایسی اشیا میں دروازوں کے ہینڈل، پنسل اور دیگر اشیا شامل ہیں۔

دوسرے افراد سے دو میٹر دور رہنے، اپنے چہرے کو چھونے اور کھانا کھانے سے قبل ہاتھوں کو باقاعدگی سے دھونے کے ذریعے اس وائرس کے پھیلاؤ کو روکا جا سکتا ہے۔ لیکن ان تمام ہدایات پر عمل کرنا بڑوں کے لیے بھی اتنا آسان نہیں ہے۔

آکسفورڈ یونیورسٹی کے پروفیسر میتھیو سنیپ اس تحقیق کا آغاز کر رہے ہیں کہ کتنے بچوں اور کم عمر افراد میں اب تک کورونا وائرس کی تشخیص ہو چکی ہے اور انھوں نے کس حد تک وائرس کے خلاف قوت مدافعت حاصل کر لی ہے۔

پروفیسر میتھیو کہتے ہیں کہ ’آیا بچے وائرس کے پھیلاؤ میں مددگار بنتے ہیں یا نہیں یہ اس وبا سے متعلق دیگر بہت سی معلومات کی طرح نامعلوم ہے۔‘

یونیورسٹی آف ساؤتھ ہیمپٹن میں وبائی امراض کے پروفیسر سول فاسٹ کہتے ہیں کہ ’دستیاب اعداد و شمار یہی ظاہر کرتے ہیں کہ بچوں میں اب وبا کی علامات بہت ہی کم واضح ہوتی ہیں اور (بچوں کے ذریعے) بالغوں میں وائرس کی منتقلی کے محرکات مختلف ہیں۔‘

انھوں نے کہا کہ ’بہت حد تک امکان ہے کہ بچوں کے بولنے یا کھانسے سے (ان کے منھ سے) وائرل مادے کا اخراج کم ہوتا ہے۔‘

سب سے پہلے بچوں کو سکول کیوں بھیجا جا رہا ہے؟
برطانوی حکومت کا کہنا ہے کہ پہلی جماعت سے لے کر چھٹی جماعت تک کے بچوں کو مندرجہ ذیل وجوہات کی بنا پر پہلے سکول بھیجا جا رہا ہے:

اس گروپ کے بچوں کی تعلیمی ضروریات اہم ہیں
چھوٹے بچوں میں اگر انفیکشن ہوتا بھی ہے تو ان کے بیمار پڑنے کے امکانات کم ہیں
بڑی عمر کے بچوں کے سکول سے باہر زیادہ روابط ہونے کا امکان ہوتا ہے، لہذا وائرس منتقلی کا خدشہ بھی زیادہ ہوتا ہے
بڑی عمر کے بچے گھر رہ کر بھی پڑھائی کر سکتے ہیں
عالمی ادارہ صحت کے چیف سائنسدان ڈاکٹر سومیا سوامی ناتھن کہتے ہیں کہ بچے وائرس کے پھیلاؤ میں کم مددگار ہوتے ہیں اور اگر وہ اس وائرس کا شکار ہو جائیں تو ان کے بیمار پڑنے کے خدشات ’انتہائی کم‘ ہوتے ہیں۔

انھوں نے مزید کہا کہ ’وہ ممالک جہاں وبا کے دوران سکول کھلے رہیں ہیں وہاں یہ دیکھا گیا ہے کہ سکولوں میں وبا کا پھیلاؤ بڑے پیمانے پر نہیں ہوا ہے۔‘

کیا بچوں کو سکول میں ماسک پہننا چاہیے؟
ایسے جگہوں پر جہاں سماجی فاصلے کے قواعد پر عمل پیرا ہونا مشکل ہوتا ہے وہاں چہرے کو ڈھانپ کر اس بیماری کے پھیلاؤ کو کم کیا جا سکتا ہے تاہم برطانوی حکومت سکولوں میں ماسک کے استعمال کی سفارش نہیں کرتی۔

حکومت کی احتیاطی تدابیر کے مطابق چھوٹے بچے ماسک کو بغیر مدد کے درست طرح سے استعمال نہیں کر سکیں گے لہذا ان کی توجہ ہاتھ دھونے اور صفائی ستھرائی پر ہونی چاہیے۔

کیا بچے اس وبا سے محفوظ ہیں؟
ایک خیال یہ ہے کہ بچوں کے پھیپڑوں میں وہ ریسیپٹرز (وہ خلیے جو ماحول سے اثر وصول کرتے ہیں) کم ہوتے ہیں جنھیں کورونا وائرس خلیوں کو متاثر کرنے کے لیے استعمال کرتا ہے اور اسی وجہ سے بچوں میں اس کے اثرات بہت کم ہوتے ہیں۔ لیکن ماہرین کا کہنا ہے کی اس نظریے کے سائنسی ثبوت کم ہے۔

ایسی رپورٹس بھیت سامنے آئی ہیں کہ کم تعداد میں کچھ بچے ایسے بھی ہیں جو اس وائرس سے زیادہ متاثر ہوئے مگر بعد ازاں ان کے جسم نے اس کے خلاف بہتر قوت مدافعت پیدا کر لی۔

کاواساکی جیسا مرض کیا ہے؟

برطانیہ، امریکا اور یورپ میں بہت سے بچوں کو کورونا وائرس سے ملتے جلتے مرض کاواساکی سے متاثر ہوتے دیکھا گیا ہے۔ بہت ہی کم تعداد میں بچوں میں اس سے متعلقہ پیچیدگیاں پیدا ہو سکتی ہیں کہ انھیں انتہائی نگہداشت کے شعبے میں داخل کروانا پڑ سکتا ہے۔

کاواساکی اور کورونا کی علامات ایک جیسی دکھائی دیتی ہیں، ایک جیسا جان لیوا سینڈروم، جو خون کی شریانوں پر اثر انداز ہوتا ہے اور اس سے تیز بخار، کم بلڈ پریشر اور سانس لینے میں دشواری ہوتی ہے۔

لیکن بچوں میں ان علامات کو بہت کم پیمانے پر دیکھا گیا ہے، برطانیہ میں اب تک 100 بچے اس سے متاثر ہو چکے ہیں۔

انگلینڈ میں بچوں کی صحت کے ادارے رائل کالج پیڈیاٹرکس اینڈ چائلڈ ہیلتھ کی صدر پروفیسر رسل وینار کہتی ہیں کہ ’اس حالت کا شکار بچوں کی بڑی تعداد میں اب صحت مند ہو رہی ہے۔‘

انھوں نے کہا کہ اس ہرگز یہ مطلب نہیں ہونا چاہیے کہ والدین اپنے بچوں کو لاک ڈاؤن سے نکالنے کا سوچیں۔

مدد کب مانگنی چاہیے؟
بچوں کو کورونا وائرس ہو تو سکتا ہے لیکن یہ شاذ و نادر ہی سنگین صورتحال اختیار کر سکتا ہے۔ اگر آپ کا بچہ بیمار ہے تو ممکن ہے کہ یہ کورونا وائرس کی بجائے کوئی اور انفیکشن یا بیماری ہو۔

رائل کالج کا کہنا ہے کہ اگر بچوں میں مندرجہ ذیل علامات نظر آئیں تو فوری مدد طلب کریں:

بچوں کا رنگ زرد پڑ جائے اور ہاتھ لگانے سے ان کا جسم بہت زیادہ ٹھنڈا محسوس ہو
سانس لینے میں تکلیف یا دشواری محسوس کریں
ہونٹ نیلے ہونا شروع ہو جائیں
کسی بھی قسم کا دورہ پڑنے لگ جائے
بچہ بہت زیادہ بے چین ہو جائے، حد سے زیادہ روئے یا اسے جگانے میں مشکل محسوس ہو
خصیوں میں درد، خاص کر درمیانی عمر کے لڑکوں میں
اگر آپ کو پہلے سے کوئی بیماری ہو؟
جن لوگوں کو پہلے سے کوئی بیماری ہے، چاہے وہ کسی بھی عمر کے ہوں وہ اس وائرس سے زیادہ متاثر ہو سکتے ہیں۔

جیسا کہ برطانیہ میں 55 لاکھ سے زائد افراد کو دمے کی بیماری ہے اور اس وجہ سے انھیں کورونا وائرس ہونے کا زیادہ امکان ہے۔

جن بچوں کو پہلے سے ہی کوئی بیماری ہے انھیں گھر پر ہی رہنے کے لیے کہا جا رہا ہے کیونکہ انھیں کورونا وائرس سے زیادہ خطرہ ہے۔

اس خبر پر اپنی رائے کا اظہار کریں

اپنا تبصرہ بھیجیں