43

عالمی وبا کورونا وائرس کے حوالے سے بیلجیئم کے محققین نے سستا اور محفوظ علاج دریافت کر لیا۔

غیرملکی خبر رساں ادارے کے مطابق بیلجیئم کے محققین نے دعویٰ کیا ہے کہ کو وِڈ 19 کی وبا سے لڑنے کے لیے وٹامن ڈی سپلیمنٹ ایک سستا اور محفوظ طریقہ ہو سکتا ہے۔

دوسری جانب محققین نے بتایا کہ ایسے شواہد ملے ہیں کہ لوگوں میں سورج کی روشنی سے حاصل ہونے والے غذائی جز کی کمی کرونا وائرس کے لیے بڑا رسک فیکٹر بن جاتی ہے۔

صحت کے برطانوی سرکاری ادارے NHS نے برطانوی شہریوں کو مشورہ دیا تھا کہ وہ لاک ڈاؤن کے دوران روزانہ 10 مائیکرو گرام کی ‘دھوپ’ کی غذائیت لیں۔

اس سلسلے میں برسلز فری یونی ورسٹی کی ٹیم نے دیکھا کہ اسپتالوں میں کورونا وائرس کے زیر علاج ان مریضوں میں رسک پانچ گنا زیادہ تھا جن میں دھوپ والی وٹامن کی کمی تھی۔

جبکہ انڈونیشیا میں چھپی ایک تحقیق میں بتایا گیا کہ اسپتال داخل 99 فی صد کرونا مریض، جن میں وٹامن ڈی کی کمی تھی اور وہ انتقال کر گئے۔

تاہم وٹامن ڈی کی کمی والے مریضوں کی تعداد مجموعی کیسز کی تعداد کا صرف 4.1 فی صد ہی تھے۔

خیال رہے کہ لاک ڈاؤن کی وجہ سے مہینوں تک گھروں میں محدود لوگوں میں وٹامن ڈی کی مزید کمی ہو گئی ہے۔

یاد رہے کہ برسلز فری یونی ورسٹی کے ماہرین نے اپنی تحقیق میں دیکھا کہ اسپتال داخل کرونا مریضوں میں صحت مند افراد کی نسبت وٹامن ڈی کی کمی تھی، محققین نے یہ بھی دیکھا کہ کرونا کی خواتین مریضوں میں صحت مند مریضوں کی نسبت وٹامن ڈی کی کمی نہیں تھی۔

واضح رہے کہ انسانی جسم جب سورج کی شعاعوں (الٹرا وائلٹ بی ریڈی ایشن) کے براہ راست سامنے آتا ہے تو یہ وٹامن ڈی پیدا کرتا ہے۔

اس خبر پر اپنی رائے کا اظہار کریں

اپنا تبصرہ بھیجیں