روس میں یومِ فتح کی تقریب، یوکرین جنگ کے سائے میں محدود فوجی پریڈ
اس بار تقریب میں بھاری جنگی ساز و سامان، ٹینکوں اور میزائلوں کی نمائش نہیں کی گئی۔
ماسکو: روس میں دوسری جنگِ عظیم میں نازی جرمنی کے خلاف فتح کی یاد میں یومِ فتح کی سالانہ تقریب منعقد کی گئی تاہم سیکیورٹی خدشات کے باعث اس سال فوجی پریڈ محدود پیمانے پر رکھی گئی۔
دارالحکومت ماسکو کے ریڈ اسکوائر میں ہونے والی تقریب میں روسی صدر ولادیمیر پیوٹن نے خطاب کرتے ہوئے کہا کہ فتح ہمیشہ روس کی رہی ہے اور رہے گی۔ قوم کی اخلاقی طاقت، جرات، اتحاد اور ہر مشکل کا مقابلہ کرنے کی صلاحیت ہی کامیابی کی اصل وجہ ہے۔
اس بار تقریب میں بھاری جنگی ساز و سامان، ٹینکوں اور میزائلوں کی نمائش نہیں کی گئی جب کہ صرف جنگی طیاروں کی روایتی فضائی پرواز شامل رہیں۔
روسی حکام کے مطابق موجودہ جنگی صورتحال اور یوکرین کی جانب سے ممکنہ حملوں کے خدشات کے باعث سیکیورٹی کے غیر معمولی انتظامات کیے گئے تھے۔
تقریب کے دوران یوکرین میں استعمال ہونے والے روسی فوجی آلات کی وڈیو بھی دکھائی گئی جب کہ محدود فوجی پریڈ پر روسی قیادت کا مؤقف ہے کہ جنگی ٹینک اور اسلحہ محاذ پر زیادہ ضروری ہیں۔
دوسری جانب امریکی صدر ڈونلڈ ٹرمپ نے اعلان کیا ہے کہ روس اور یوکرین ہفتے سے پیر تک جنگ بندی اور قیدیوں کے تبادلے پر آمادہ ہوگئے ہیں تاہم اس اعلان کے چند گھنٹوں بعد دونوں ممالک نے ایک دوسرے پر جنگ بندی کی خلاف ورزی کے الزامات عائد کیے ہیں۔
یوکرین کی فوج نے الزام لگایا کہ روسی حملوں کی تعداد 51 تک پہنچ گئی جب کہ روسی وزارتِ دفاع نے کہا کہ یوکرینی افواج نے ڈرونز اور توپ خانے کے ذریعے روسی فوجی ٹھکانوں کو نشانہ بنایا۔
یومِ فتح کی تقریب کے بعد صحافیوں سے گفتگو میں ولادیمیر پیوٹن نے کہا کہ انہیں یقین ہے کہ یوکرین جنگ اپنے اختتام کے قریب ہے جب کہ مستقل امن معاہدہ ہونے کی صورت میں وہ یوکرینی صدر سے براہِ راست ملاقات بھی کرسکتے ہیں۔
تقریب کے موقع پر روس نے خبردار کیا کہ اگر یوکرین نے یومِ فتح کی تقریبات میں خلل ڈالنے کی کوشش کی تو کیف کے مرکز پر بڑا میزائل حملہ کیا جائے گا۔
واضح رہے کہ دوسری جنگِ عظیم میں سوویت یونین کے تقریباً دو کروڑ ستر لاکھ افراد ہلاک ہوئے تھے جسے روس آج بھی اپنی قومی تاریخ کی عظیم قربانی تصور کرتا ہے۔




