1

معدوم پرندوں کو دوبارہ زندہ کرنے کے لیے مصنوعی انڈا تیار

معدوم پرندوں کو دوبارہ زندہ کرنے کے لیے مصنوعی انڈا تیار

اگر یہ ٹیکنالوجی کامیاب ثابت ہوئی تو یہ تحفظِ جنگلی حیات کے لیے نہایت مفید ثابت ہو سکتی ہے

امریکی کمپنی نے دعویٰ کیا ہے کہ اس نے ایک ایسا مصنوعی انڈا تیار کیا ہے جس سے ناپید پرندوں کو دوبارہ زندہ کیا جاسکتا ہے۔

امریکی ریاست ٹیکساس کی مقامی کمپنی کولوسل بائیو سائنسز کے اعلان کے مطابق کمپنی نے ایک ایسا مصنوعی انڈا تیار کیا ہے جسے کمپنی جائنٹ موآ کی واپسی کے لیے نہایت اہم قرار دے رہی ہے یہ دیوہیکل پرندہ تقریباً 500 سال پہلے معدوم ہوگیا تھا اگر یہ دعویٰ درست ثابت ہوتا ہے تو اسے حیاتیاتی سائنس میں ایک بڑی پیش رفت قرار دیا جا سکتا ہے۔

کمپنی کے مطابق اُس نے اس نئے مصنوعی انڈے سے کامیابی کے ساتھ 26 چوزے نکال لیے ہیں یہ انڈا اس طرح ڈیزائن کیا گیا ہے کہ اسے بڑے پیمانے پر اور مختلف سائزز میں تیار کیا جاسکے۔

کمپنی نے بتایا کہ اس مصنوعی انڈے میں پرندوں کے جنین کو قدرتی خول کے بغیر مکمل طور پر نشوونما دی جا سکتی ہے اور اس عمل کے لیے اضافی آکسیجن کی ضرورت بھی نہیں پڑتی یہ منصوبہ ناپید ہو جانے والے پرندوں، جیسے دیو قامت ’’موآ‘‘ اور ’’ڈوڈو‘‘کو دوبارہ زندہ کرنے کی کوششوں کا حصہ ہے۔

یہ بھی پڑھیں: انڈا کھانے کا ایک اورحیرت انگیز فائدہ سامنے آگیا

ماہرین کا کہنا ہے کہ اگر یہ ٹیکنالوجی کامیاب ثابت ہوئی تو یہ تحفظِ جنگلی حیات کے لیے نہایت مفید ثابت ہو سکتی ہے تاہم کمپنی نے اپنی اس کامیابی کے حوالے سے ابھی تک کوئی سائنسی ڈیٹا یا تحقیقی مقالہ شائع نہیں کیا جس کے باعث آزادانہ طور پر اس دعوے کی تصدیق ممکن نہیں ہو سکی۔

مصنوعی انڈوں کے وسیع پیمانے پر استعمال میں کئی رکاوٹیں موجود ہیں جنین کی بہتر نشوونما کے لیے خالص آکسیجن فراہم کرنا ضروری ہوتا ہے لیکن اس سے چوزوں کی صحت اور بقا پر منفی اثرات بھی مرتب ہو سکتے ہیں۔

کولوسل بائیو سائنسز  نے اس مسئلے کا حل نکال لیا ہے کمپنی نے سخت انڈے کے خول اور زردی کو الگ رکھنے والی جھلی کی جگہ ایک نئی ساخت تیار کی ہے جس میں جالی نما کھلا نصف خول اور شفاف سلیکون جھلی استعمال کی گئی ہے یہ جھلی ہوا سے آکسیجن کو براہِ راست جنین تک پہنچنے دیتی ہے۔

کمپنی کے منصوبے کے مطابق اصلی انڈے سے بارآور جنین اور زردی کو نکال کر مصنوعی انڈے میں منتقل کیا جاتا ہے جسے بعد میں انکیوبیٹر میں رکھا جاتا ہے شفاف جھلی کی بدولت سائنسدان جنین کی نشوونما کو براہِ راست دیکھ بھی سکتے ہیں۔

اس خبر پر اپنی رائے کا اظہار کریں

اپنا تبصرہ بھیجیں