کم محنت میں زیادہ فائدہ؛ ماہرین نے ورزش کا مؤثر طریقہ بتادیا
ایک خاص طرز کی ورزش کم توانائی کے ساتھ پٹھوں کو زیادہ مضبوط بناسکتی ہے۔
ماہرین کا کہنا ہے کہ زیادہ تھکن کے بجائے سمجھداری سے کی گئی ورزش بہتر نتائج دے سکتی ہے، خاص طور پر ان افراد کے لیے جو وقت یا توانائی کی کمی کا شکار ہوتے ہیں۔
آسٹریلیا کے ایک اسپورٹس سائنس دان کے مطابق ایک خاص طرز کی ورزش کم توانائی کے ساتھ پٹھوں کو زیادہ مضبوط بناسکتی ہے۔
اس طریقۂ کار میں جسمانی حرکت کے اس حصے پر توجہ دی جاتی ہے جس میں پٹھے دباؤ کے ساتھ آہستہ آہستہ لمبے ہوتے ہیں، جیسے وزن نیچے رکھنا یا کرسی پر بیٹھنا۔ اس عمل سے پٹھوں پر زیادہ اثر پڑتا ہے لیکن توانائی کم خرچ ہوتی ہے۔
ماہرین کے مطابق اس قسم کی ورزش کے لیے کسی خاص آلات کی ضرورت نہیں ہوتی، روزمرہ کی سرگرمیاں جیسے سیڑھیاں اترنا یا اسکواٹ کرنا بھی اسی زمرے میں آتے ہیں جو اسے ہر عمر کے افراد کے لیے آسان اور قابلِ عمل بناتے ہیں۔
تحقیق میں بتایا گیا ہے کہ عام طور پر لوگ سمجھتے ہیں کہ مؤثر ورزش کے لیے زیادہ تھکن یا درد ضروری ہے لیکن حقیقت میں یہ سوچ بہت سے لوگوں کو ورزش سے دور رکھتی ہے۔
اگرچہ اس طریقۂ ورزش کے آغاز میں پٹھوں میں درد ہوسکتا ہے تاہم ماہرین کا کہنا ہے کہ یہ مسئلہ وقت کے ساتھ کم ہوجاتا ہے، خاص طور پر اگر شدت کو بتدریج بڑھایا جائے۔
مزید تحقیق سے یہ بھی ثابت ہوا ہے کہ اس طرز کی ورزش پٹھوں کی طاقت، توازن اور دل کی صحت کو بہتر بنانے میں مددگار ثابت ہوتی ہے جب کہ جسم پر دباؤ بھی نسبتاً کم پڑتا ہے۔
ماہرین کے مطابق یہ طریقہ خاص طور پر عمر رسیدہ افراد، زیادہ وقت بیٹھ کر گزارنے والوں اور بعض طبی مسائل کے شکار لوگوں کے لیے مفید ہے جو روایتی ورزش کرنے میں دشواری محسوس کرتے ہیں۔
ایک تحقیق میں 12 ہفتوں تک سیڑھیاں چڑھنے اور اترنے کی عادت اپنانے والی خواتین کا جائزہ لیا گیا جس میں سیڑھیاں اترنے والوں کی صحت میں زیادہ بہتری دیکھی گئی۔
ماہرین کا کہنا ہے کہ اگر اس طرز کی ورزش کو معمول بنایا جائے تو کم وقت اور کم محنت میں بہتر صحت حاصل کی جاسکتی ہے۔




