خریف 2026 میں صوبوں کو فصلوں کیلیے کتنا پانی ملے گا؟ ارسا نے منظوری دے دی
محکمہ موسمیات کے مطابق اپریل سے جون کے دوران بارشیں معمول کے مطابق یا اس سے زیادہ ہونے کا امکان ہے
ارسا ایڈوائزری کمیٹی نے خریف 2026 کے لیے پانی کی دستیابی کے معیار کی منظوری دے دی ہے، تاہم ابتدائی سیزن میں پانی کی کمی کا خدشہ برقرار ہے۔
حکام کے مطابق ابتدائی خریف کے دوران پانی میں 15 فیصد کمی کا تخمینہ لگایا گیا ہے جبکہ لیٹ خریف میں یہ قلت کم ہو کر 5 فیصد رہ جانے کی توقع ہے۔ خریف 2026 کے دوران مجموعی طور پر 103.30 ملین ایکڑ فٹ پانی کی آمد متوقع ہے۔
صوبوں کے لیے پانی کی تقسیم کے مطابق پنجاب کو 33.357 ملین ایکڑ فٹ، سندھ کو 30.403 ملین ایکڑ فٹ، بلوچستان کو 2.868 ملین ایکڑ فٹ اور خیبر پختونخوا کو 0.823 ملین ایکڑ فٹ پانی فراہم کیا جائے گا۔
ادھر ٹربیلا ڈیم کی صورتحال تشویشناک بتائی گئی ہے، جہاں مٹی بھرنے کے باعث اس کی مجموعی ذخیرہ کرنے کی صلاحیت 48 فیصد تک کم ہو چکی ہے، جبکہ کم از کم سطح بھی بڑھ کر 1402 فٹ تک پہنچ گئی ہے۔
ملک میں اس وقت پانی کا مجموعی ذخیرہ 2.307 ملین ایکڑ فٹ ہے جو گزشتہ سالوں کے مقابلے میں بہتر قرار دیا جا رہا ہے۔
محکمہ موسمیات کے مطابق اپریل سے جون کے دوران بارشیں معمول کے مطابق یا اس سے زیادہ ہونے کا امکان ہے، تاہم درجہ حرارت معمول سے زیادہ رہنے کی پیشگوئی بھی کی گئی ہے۔
واپڈا نے یقین دہانی کرائی ہے کہ ٹربیلا فور پاور پلانٹ 7 مئی 2026 سے فعال ہو جائے گا، جبکہ ٹی فائیو منصوبے کی تعمیر کے لیے 31 مئی تک ڈیم کی سطح 1470 فٹ سے نیچے رکھی جائے گی۔
ماہرین کے مطابق پانی کی صورتحال بہتر ہونے کے باوجود ڈیمز کی کم ہوتی گنجائش مستقبل میں بڑے چیلنجز پیدا کر سکتی ہے، جس کے لیے فوری حکمت عملی کی ضرورت ہے۔




