کراچی میں اسٹریٹ کرائم بے قابو، شہری لاکھوں روپے مالیت کے سامان سے محروم، مزاحمت پر 42 افراد قتل
گزشتہ ماہ میں مجموعی طور پر3192 موٹرسائیکلیں چھینی یا چوری کی گئیں
کراچی میں اسٹریٹ کرائم کا گراف خطرناک حد تک بلند ہوگیا ہے اور کراچی پولیس شہریوں کے جان و مال کے تحفظ میں مکمل ناکام ہوگئی ہے۔
کراچی میں اسٹریٹ کرائم کے حوالے سے سی پی ایل سی سندھ نے ماہانہ کرائمز رپورٹ جاری کی ہے جس کے مطابق اپریل میں جرائم کی شرح میں خطرناک اضافہ ریکارڈ کیا گیا ہے۔
جاری کردہ رپورٹ کے اعداد وشمار کے مطابق شہرِقائد میں اپریل کے دوران مزاحمت پر فائرنگ اور پرتشدد واقعات میں 42 شہری جان سے ہاتھ دھو بیٹھے جبکہ گزشتہ ماہ میں مجموعی طور پر3192 موٹرسائیکلیں چھینی یا چوری کی گئیں جبکہ ایک ماہ میں 1624افراد سےموبائل فون چھین لیےگئے۔
رپورٹ میں بتایا گیا کہ اپریل میں گاڑیوں کی چوری بھی بے قابو رہی جہاں 133 گاڑیاں شہریوں سےچھین لی گئیں اور چوری ہوئیں جبکہ شہر میں اغوا برائے تاوان کا 1 اور بھتہ خوری کے9کیسز رپورٹ ہوئے۔
رپورٹ کے مطابق یومیہ اوسطاً 50 سےزائد موبائل فونز اور 100 سےزائد گاڑیاں، موٹرسائیکلیں چوری ہو رہی ہیں اپریل میں 469 موٹرسائیکلیں اسلحے کے زور پر چھینی گئیں جبکہ 2723 چوری ہوئیں تاہم کراچی پولیس کے دعوے دھرے کے دھرے رہ گئے اور جرائم پیشہ عناصر شہر میں کھلے عام دندناتے رہے۔




