امریکا اور ایران کے درمیان بڑی بریک تھرو؟ 60 روزہ خفیہ ڈیل کی اندرونی کہانی سامنے آگئی
امریکا مرحلہ وار اپنی بحری ناکہ بندی نرم کرے گا، رپورٹ
امریکی نیوز ویب سائٹ کی رپورٹ کے مطابق دونوں ممالک کے مذاکرات کار 60 روزہ مفاہمتی یادداشت پر متفق ہو گئے ہیں تاہم اس معاہدے کو حتمی شکل دینے کے لیے امریکی صدر ڈونلڈ ٹرمپ کی منظوری ابھی باقی ہے۔
رپورٹ میں دعویٰ کیا گیا ہے کہ مجوزہ مفاہمتی یادداشت کے تحت جنگ بندی میں توسیع، ایران کے جوہری پروگرام پر نئے مذاکرات اور آبنائے ہرمز میں بحری سرگرمیوں کو معمول پر لانے جیسے اہم نکات شامل ہیں۔
اگر اس معاہدے پر دستخط ہو جاتے ہیں تو یہ حالیہ کشیدگی کے بعد امریکا اور ایران کے درمیان سب سے بڑی سفارتی پیش رفت تصور کی جائے گی۔
ذرائع کے مطابق منگل تک معاہدے کے زیادہ تر نکات پر اتفاق ہو چکا تھا، تاہم دونوں فریق اپنی اعلیٰ قیادت سے حتمی منظوری کے منتظر تھے۔ امریکی حکام کا کہنا ہے کہ بعد میں ایرانی نمائندوں نے دستخط کے لیے آمادگی ظاہر کی، لیکن تہران کی جانب سے اس کی باضابطہ تصدیق سامنے نہیں آئی۔
رپورٹ کے مطابق امریکی مذاکرات کاروں نے معاہدے کی تفصیلات صدر ٹرمپ کو پیش کیں، تاہم انہوں نے فوری فیصلہ کرنے کے بجائے مزید غور کے لیے چند روز کا وقت مانگا ہے۔
ذرائع کے مطابق مجوزہ معاہدے میں آبنائے ہرمز میں جہاز رانی کو مکمل طور پر محفوظ اور بلا رکاوٹ رکھنے پر زور دیا گیا ہے۔ اس کے تحت ایران کو 30 دن کے اندر سمندری راستوں سے بارودی سرنگیں ہٹانے کی شرط بھی شامل ہے، جبکہ امریکا مرحلہ وار اپنی بحری ناکہ بندی نرم کرے گا۔
امریکی حکام کے مطابق مفاہمتی یادداشت میں ایران کی جانب سے جوہری ہتھیار حاصل نہ کرنے کے عزم کو بھی شامل کیا گیا ہے۔ ساتھ ہی افزودہ یورینیم کے ذخائر اور یورینیم افزودگی کے معاملے پر آئندہ 60 دن میں تفصیلی مذاکرات کیے جائیں گے۔
رپورٹ میں یہ بھی کہا گیا ہے کہ امریکا مذاکرات کے دوران ایران پر عائد بعض پابندیوں میں نرمی اور منجمد اثاثوں کی بحالی جیسے معاملات پر بات چیت کے لیے تیار ہو سکتا ہے۔ اس کے علاوہ انسانی امداد اور ضروری اشیا کی فراہمی کے لیے خصوصی طریقہ کار پر بھی غور کیا جا رہا ہے۔
عالمی مبصرین کے مطابق اگر یہ معاہدہ عملی شکل اختیار کرتا ہے تو نہ صرف خطے میں کشیدگی کم ہو سکتی ہے بلکہ عالمی تیل منڈی اور مشرقِ وسطیٰ کی سیاسی صورتحال پر بھی اس کے گہرے اثرات مرتب ہوں گے۔




