1

امریکی صدر ٹرمپ چین کے 3 روزہ دورے پر بدھ کو بیجنگ پہنچیں گے

امریکی صدر ٹرمپ چین کے 3 روزہ دورے پر بدھ کو بیجنگ پہنچیں گے

ملاقات میں نایاب معدنیات کے حوالے سے موجودہ معاہدے میں توسیع کا معاملہ بھی زیر بحث آنے کا امکان ہے

 امریکی صدر ڈونلڈ ٹرمپ بدھ کے روز تین روزہ سرکاری دورے پر چین پہنچیں گے جہاں ان کی چینی صدر شی جن پنگ سے اہم ملاقات متوقع ہے۔ امریکی حکام کے مطابق ملاقات میں ایران، تائیوان، عالمی سلامتی، مصنوعی ذہانت، ایٹمی ہتھیاروں اور دوطرفہ تجارت سمیت کئی اہم امور پر تفصیلی تبادلہ خیال ہوگا۔

رائٹرز کے مطابق دونوں ممالک کے درمیان بوئنگ طیاروں، امریکی زرعی مصنوعات اور توانائی کے شعبے میں ممکنہ معاہدوں پر بھی پیش رفت کا امکان ہے، جبکہ تجارت اور سرمایہ کاری کیلئے مستقل ادارہ جاتی تعاون کے قیام پر بھی غور کیا جائے گا۔ نایاب معدنیات سے متعلق معاہدے میں توسیع بھی مذاکرات کے ایجنڈے میں شامل ہے۔

دوسری جانب صدر ٹرمپ نے مختلف امریکی میڈیا اداروں کو انٹرویوز اور وائٹ ہاؤس میں گفتگو کے دوران ایران کے حوالے سے سخت مؤقف اختیار کیا۔ انہوں نے کہا کہ ایران جوہری ہتھیار حاصل نہیں کر سکتا اور امریکا معاہدے تک تہران پر دباؤ برقرار رکھے گا۔

ٹرمپ نے دعویٰ کیا کہ ایران میں امریکی حملوں نے اپنے مقاصد حاصل کر لیے ہیں، تاہم ایران کے جوہری مواد کو ملبے سے نکالنے کے معاملے پر اب مزید سفارتی مذاکرات کی ضرورت ہے۔ انہوں نے ایرانی تجاویز کو “احمقانہ” اور “ناقابل قبول” قرار دیتے ہوئے کہا کہ تہران کے نمائندوں کا جواب انہیں پسند نہیں آیا۔

امریکی صدر کا کہنا تھا کہ ایران میں سخت گیر قیادت دباؤ میں آ رہی ہے اور بالآخر پیچھے ہٹ جائے گی۔ انہوں نے یہ بھی دعویٰ کیا کہ ایران کے پاس ایٹمی فضلہ نکالنے کی مطلوبہ ٹیکنالوجی موجود نہیں اور ایرانی مذاکرات کار اس معاملے پر امریکی مدد کی ضرورت کا اعتراف کر چکے ہیں۔

وائٹ ہاؤس میں گفتگو کرتے ہوئے ٹرمپ نے کہا کہ ایران کی ناکہ بندی ایک “عظیم فوجی منصوبہ” ہے اور سابق امریکی صدور کو بھی وہی اقدامات کرنے چاہئیں تھے جو ان کی انتظامیہ نے کیے۔

انہوں نے ایران کے ساتھ جاری جنگ بندی کو “وینٹی لیٹر پر موجود مریض” سے تشبیہ دیتے ہوئے کہا کہ اگرچہ صورتحال کمزور ہے، تاہم سفارتی حل اب بھی ممکن ہے۔

ادھر داخلی معاشی امور پر بات کرتے ہوئے صدر ٹرمپ نے کہا کہ ایران کے ساتھ جنگی صورتحال کے باعث وہ عارضی طور پر گیس پر عائد 18 سینٹ فی گیلن ٹیکس ختم کرنا چاہتے ہیں تاکہ عوام کو ریلیف دیا جا سکے۔ امریکی میڈیا کے مطابق اس اقدام کیلئے کانگریس کی منظوری درکار ہوگی اور اس سے حکومت کو ہفتہ وار تقریباً نصف ارب ڈالر کے نقصان کا سامنا کرنا پڑ سکتا ہے۔

صدر ٹرمپ نے “فریڈم پروجیکٹ” کی بحالی سے متعلق کسی حتمی فیصلے کی تردید بھی کی۔

اس خبر پر اپنی رائے کا اظہار کریں

اپنا تبصرہ بھیجیں