ایران کی ناکہ بندی کئی ماہ تک برقرار رہ سکتی ہے، وائٹ ہاؤس
موجودہ پابندیوں کے باعث ایران کے معاشی حالات تیزی سے خراب ہو رہے ہیں، امریکی صدر
امریکی صدر ڈونلڈ ٹرمپ اور وائٹ ہاؤس حکام کی جانب سے ایران کے حوالے سے سخت مؤقف ایک بار پھر عالمی توجہ کا مرکز بن گیا ہے، جہاں ایران پر بحری ناکہ بندی کو مزید کئی ماہ تک جاری رکھنے کے اشارے دیے گئے ہیں۔
امریکی حکام کے مطابق ایران پر عائد دباؤ اس وقت تک برقرار رہے گا جب تک تہران جوہری پروگرام سے متعلق کسی جامع معاہدے پر آمادہ نہیں ہوتا۔ صدر ٹرمپ نے واضح کیا کہ یہ محاصرہ وقتی نہیں بلکہ ایک حکمتِ عملی ہے جو ایران کو مذاکرات کی میز پر لانے کے لیے جاری رکھی گئی ہے۔
ٹرمپ کے مطابق ایران کی بحری ناکہ بندی کو وہ بمباری سے زیادہ مؤثر اقدام سمجھتے ہیں، کیونکہ اس کے نتیجے میں ایران کی تیل برآمدات بری طرح متاثر ہو رہی ہیں اور معیشت دباؤ کا شکار ہے۔
صدر ٹرمپ نے یہ بھی کہا کہ ایران کو ایک ایسے معاہدے پر آمادہ ہونا ہوگا جس میں امریکہ کے جوہری خدشات مکمل طور پر دور کیے جائیں۔ ان کے مطابق ایران اس وقت صرف اس امید پر بات چیت چاہتا ہے کہ بحری محاصرہ ختم کر دیا جائے، تاہم ایسا کوئی فیصلہ فی الحال زیر غور نہیں۔
امریکی صدر نے دعویٰ کیا کہ موجودہ پابندیوں کے باعث ایران کے معاشی حالات تیزی سے خراب ہو رہے ہیں اور ملک کی تیل ذخیرہ کرنے کی تنصیبات اور پائپ لائنوں پر بھی دباؤ بڑھ رہا ہے۔ ان کے مطابق ایران کی معیشت “شدید دباؤ” میں ہے اور صورتحال مزید بگڑ سکتی ہے۔
تاہم ٹرمپ نے اس بات کی بھی تصدیق کی کہ ایران پر دوبارہ کسی نئے فوجی حملے کا کوئی حکم جاری نہیں کیا گیا۔
ادھر تجزیہ کاروں کا کہنا ہے کہ بحری ناکہ بندی اور سخت بیانات کے باعث خطے میں کشیدگی بڑھ رہی ہے اور عالمی توانائی منڈی بھی اس صورتحال سے متاثر ہو رہی ہے۔
مجموعی طور پر واشنگٹن اور تہران کے درمیان بڑھتا ہوا یہ تنازعہ ایک ایسے مرحلے میں داخل ہوتا دکھائی دے رہا ہے جہاں دباؤ، سفارت کاری اور اقتصادی پابندیاں ایک دوسرے سے ٹکرا رہی ہیں۔




