1

معرکۂ حق میں پاکستان نے اپنے سے 5 گنا بڑے دشمن کو عبرتناک شکست دی، ڈی جی آئی ایس پی آر

انہوں نے مزید کہا کہ واقعے کے اگلے ہی روز بھارتی وزیر اطلاعات بین الاقوامی میڈیا کو ساتھ لے کر گئے، تاہم اس کے باوجود دنیا کو قابلِ اعتماد شواہد فراہم نہیں کیے جا سکے۔

پریس کانفرنس کے دوران ڈی جی آئی ایس پی آر نے کہا کہ بین الاقوامی میڈیا نمائندے مختلف مقامات اور مساجد تک گئے اور انہوں نے خود یہ سوال اٹھایا کہ آخر حملوں میں کون لوگ نشانہ بنے۔ انہوں نے کہا کہ دنیا نے دیکھا کہ متاثرین میں بچے، خواتین، بزرگ اور عام شہری شامل تھے۔

انہوں نے کہا کہ بھارت بار بار پاکستان پر دہشت گردی کے الزامات لگاتا رہا، لیکن معرکہ حق کے بعد یہ “ڈرامہ” ہمیشہ کے لیے دفن ہو چکا ہے۔ ان کے مطابق حقیقت یہ ہے کہ دنیا اب خود دیکھ رہی ہے کہ خطے میں عدم استحکام پیدا کرنے والا کردار کون ادا کر رہا ہے۔

ڈی جی آئی ایس پی آر نے کہا کہ پاکستان نے معرکہ حق کے دوران انتہائی ذمہ داری کا مظاہرہ کیا اور کشیدگی کو قابو میں رکھا۔ ان کا کہنا تھا کہ پاکستان نے نہ صرف خطے کے امن کو مقدم رکھا بلکہ صورتحال کو مزید خطرناک ہونے سے بھی روکا۔

انہوں نے کہا کہ دنیا نے یہ بھی دیکھا کہ کشیدگی کو کنٹرول کرنے اور خطے کو مستحکم رکھنے میں پاکستان نے ذمہ دار ریاست کا کردار ادا کیا، جبکہ بھارت جذباتی بیانات، سیاسی مقاصد اور اشتعال انگیز رویوں کے ذریعے پورے خطے کو خطرے میں ڈالنے کی کوشش کرتا رہا۔

ڈی جی آئی ایس پی آر کے مطابق بھارت خود کو خطے کا “نیٹ سکیورٹی پرووائیڈر” ظاہر کرنے کی کوشش کرتا رہا، تاہم معرکہ حق کے دوران عالمی برادری نے حقیقت اپنی آنکھوں سے دیکھ لی۔

ڈی جی آئی ایس پی آراحمد شریف چوہدری نے مزید کہا کہ اگر آج بھی خطے میں استحکام کے لیے سب سے زیادہ کوئی ملک کوشش کر رہا ہے تو وہ پاکستان ہے۔

انہوں نے کہا کہ گزشتہ ایک سال کے دوران بھارت کی نام نہاد پیشہ ورانہ عسکری سوچ کی کئی مثالیں سامنے آئیں۔ ان کے مطابق بعض مواقع پر بھارتی عسکری قیادت کی جانب سے ایسے بیانات دیے گئے جو ایک پیشہ ور فوجی رویے کے بجائے سیاسی نوعیت کے دکھائی دیے۔

ڈی جی آئی ایس پی آر نے کہا کہ بھارت کی فوجی قیادت اپنے سیاسی بیانیے کو فوجی اداروں میں منتقل کرنے کی کوشش کرتی دکھائی دی، جبکہ پاکستان کی مسلح افواج نے پورے عرصے کے دوران مکمل پیشہ ورانہ طرزِ عمل اختیار کیا۔

انہوں نے کہا کہ پاکستان کی فوج کے کسی افسر نے کبھی سیاسی قیادت کے بیانات کو بنیاد بنا کر اشتعال انگیز طرزِ گفتگو اختیار نہیں کیا، جبکہ بھارتی سیاست دانوں کے بیانات اکثر جنگی ماحول پیدا کرنے والے محسوس ہوتے تھے۔

ان کا کہنا تھا کہ بھارتی قیادت کی جانب سے مسلسل اشتعال انگیز نعرے اور جارحانہ بیانات سامنے آتے رہے، لیکن پاکستان نے ہر موقع پر ذمہ داری، تحمل اور پیشہ ورانہ انداز اپنایا۔

ڈی جی آئی ایس پی آر نے کہا کہ اگر بھارت کو کسی معاملے پر اعتراض یا اختلاف ہے تو اسے اشتعال انگیز بیانات کے بجائے براہِ راست اور ذمہ دارانہ انداز میں بات کرنی چاہیے۔

ڈی جی آئی ایس پی آر نے کہا کہ بھارت کو اپنے اندرونی اور بیرونی مسائل کا سامنا ہے، لیکن وہ ان مسائل کی ذمہ داری دوسروں پر ڈالنے کی کوشش کرتا ہے۔

انہوں نے کہا کہ بھارت کے اندر کشمیر سمیت مختلف علاقوں میں مسلمانوں، عیسائیوں اور دیگر اقلیتوں کے ساتھ جو سلوک ہو رہا ہے، وہ دنیا کے سامنے ہے۔ ان کے مطابق منی پور اور دیگر علاقوں میں بھی صورتحال تشویشناک رہی، تاہم ان مسائل کے باوجود بھارت مسلسل پاکستان پر الزامات عائد کرتا رہا۔

ڈی جی آئی ایس پی آر نے کہا کہ مسئلہ کشمیر ایک بین الاقوامی تنازع ہے، جس پر اقوام متحدہ کی قراردادیں موجود ہیں۔ انہوں نے کہا کہ بھارت کی جانب سے آبادی کا تناسب تبدیل کرنے، قانونی تبدیلیاں کرنے اور دیگر اقدامات کے باوجود کشمیر کا مسئلہ اپنی جگہ موجود ہے۔

ان کا کہنا تھا کہ جب بھارت کو اپنے داخلی اور خارجی مسائل کا سامنا ہوتا ہے تو وہ دہشت گردی کے بیانیے کو استعمال کرنا شروع کر دیتا ہے۔ انہوں نے کہا کہ بھارت مختلف واقعات کا الزام دوسروں پر ڈالنے کی کوشش کرتا ہے، جبکہ بعض اوقات اپنے ہی ملک میں پیش آنے والے واقعات کو بھی سیاسی مقاصد کے لیے استعمال کیا جاتا ہے۔

ڈی جی آئی ایس پی آر نے کہا کہ یہ کوئی نئی حکمت عملی نہیں بلکہ بھارت طویل عرصے سے اسی طرزِ عمل پر عمل پیرا ہے۔

ڈی جی آئی ایس پی آر احمد شریف چوہدری نے کہا کہ پاکستان نے معرکہ حق اور بنیان مرصوص کے دوران جدید جنگ کے مختلف پہلوؤں کا عملی تجربہ کیا۔

انہوں نے کہا کہ آج کی جنگ صرف روایتی میدانوں تک محدود نہیں رہی بلکہ یہ ایک کثیر جہتی جنگ بن چکی ہے، جو فضا، زمین، سمندر، سائبر، اطلاعات اور انسانی ذہنوں تک پھیل چکی ہے۔

ان کے مطابق اس نوعیت کی جنگ کے اثرات شہروں، دیہاتوں، گلیوں اور عام شہریوں تک محسوس کیے جاتے ہیں۔ انہوں نے کہا کہ جدید جنگ میں صرف ہتھیار ہی نہیں بلکہ معلومات، بیانیہ اور ذہنی سطح پر اثرانداز ہونے کے حربے بھی استعمال کیے جاتے ہیں۔

ڈی جی آئی ایس پی آر نے کہا کہ پاکستان نے ان تمام چیلنجز کا سامنا کیا اور ہر میدان میں تیاری اور مؤثر حکمت عملی کا مظاہرہ کیا۔ انہوں نے کہا کہ پاکستان پہلے بھی تیار تھا، دورانِ معرکہ بھی مکمل طور پر متحرک رہا اور اب بھی ہر قسم کے خطرات سے نمٹنے کے لیے تیار ہے۔

ڈی جی آئی ایس پی آر احمد شریف چوہدری نے کہا کہ پاکستان نے معرکہ حق کے دوران واضح پیغام دیا کہ ملک کے دفاع پر کوئی سمجھوتہ نہیں کیا جا سکتا اور ہر قسم کی جارحیت کا بھرپور جواب دینے کی مکمل صلاحیت موجود ہے۔

انہوں نے کہا کہ پاکستان ہر چیلنج کا سامنا کرنے کے لیے تیار ہے اور دشمن کی کسی بھی کارروائی کا مؤثر اور فوری جواب دیا جائے گا۔

ڈی جی آئی ایس پی آر کے مطابق بانیٔ پاکستان محمد علی جناح کا یہ مؤقف آج بھی پوری قوت کے ساتھ زندہ ہے کہ پاکستان کے خلاف کوئی سازش یا جارحیت کامیاب نہیں ہو سکتی۔

انہوں نے کہا کہ معرکہ حق نے دنیا کو یہ پیغام دیا کہ پاکستان اپنی خودمختاری، سلامتی اور دفاع کے معاملے میں متحد اور مضبوط ہے، اور عالمی سطح پر بھی اس مؤقف کو تسلیم کیا جا رہا ہے۔

ڈی جی آئی ایس پی آر احمد شریف چوہدری نے کہا کہ معرکہ حق کے دوران پاکستان نے دنیا کو یہ دکھایا کہ ملک، افواج، قیادت اور عوام ایک صفحے پر کھڑے ہیں۔

انہوں نے کہا کہ بعض حلقوں کو یہ شک تھا کہ پاکستان اندرونی طور پر متحد نہیں، تاہم حالات نے ثابت کر دیا کہ بچے سے لے کر بزرگ تک، غریب سے لے کر امیر تک، کشمیر سے گوادر تک پوری قوم ایک ہو کر کھڑی رہی۔

ڈی جی آئی ایس پی آر نے کہا کہ یہ قومی اتحاد اللہ تعالیٰ کی خاص نعمت ہے، جس پر پوری قوم شکر گزار ہے۔ ان کے مطابق معرکہ حق کے ایک سال مکمل ہونے پر اس پورے عرصے کا جائزہ لیا جا رہا ہے تاکہ یہ دیکھا جا سکے کہ پاکستان نے کن حالات کا سامنا کیا اور خطے میں کیا صورتحال رہی۔

انہوں نے کہا کہ اس تناظر میں یہ بھی سمجھنا ضروری ہے کہ مشرقی ہمسایہ ملک بھارت اس دوران کس طرزِ عمل اور حکمت عملی پر عمل کرتا رہا۔

ڈی جی آئی ایس پی آر احمد شریف چوہدری نے کہا کہ بھارت کے اندر سیاسی، عسکری اور سماجی سطح پر بڑھتے ہوئے مسائل واضح ہو رہے ہیں۔

انہوں نے کہا کہ وہاں اقلیتوں کے ساتھ ریاستی رویے پر سوالات اٹھ رہے ہیں اور مختلف طبقات میں بے چینی بڑھ رہی ہے۔ ان کے مطابق یہ تاثر بھی پایا جاتا ہے کہ بعض اوقات مختلف مذہبی برادریوں کے ساتھ امتیازی سلوک کیا جاتا ہے، جس پر اندرونی اور بیرونی سطح پر بحث جاری رہتی ہے۔

ڈی جی آئی ایس پی آر نے کہا کہ بھارت کے اندرونی حالات اور سماجی تقسیم وقت کے ساتھ مزید نمایاں ہو رہی ہے، جس کے اثرات اس کی مجموعی سیاسی اور سکیورٹی صورتحال پر بھی پڑ رہے ہیں۔

اس خبر پر اپنی رائے کا اظہار کریں

اپنا تبصرہ بھیجیں