1

پاکستانی و ایرانی ملاحوں کی بحفاظت واپسی؛ پاکستان کی سنگاپور سے تعاون کی درخواست

پاکستانی و ایرانی ملاحوں کی بحفاظت واپسی؛ پاکستان کی سنگاپور سے تعاون کی درخواست

پاکستان نے ایرانی شہریوں کی محفوظ واپسی کے لیے پاکستان کے راستے ایران بھیجنے میں سہولت فراہم کرنے کی پیشکش بھی کی ہے

اسلام آباد: نائب وزیراعظم اور وزیر خارجہ اسحاق ڈار نے پاکستانی و ایرانی ملاحوں کی وطن واپسی کے لیے سنگاپور اور ایران کے وزرائے خارجہ سے رابطہ کیا ہے اور تعاون کے لیے بات کی ہے۔

اسحاق ڈار نے سوشل میڈیا پلیٹ فارم ایکس پر اپنے بیان میں کہا کہ سنگاپور کے وزیر خارجہ عزت مآب ویوین بالا کرشنن سے بات چیت کی گئی جس میں ان سے درخواست کی گئی کہ وہ 11 پاکستانی اور 20 ایرانی بحری عملے کی فلاح و بہبود اور وطن واپسی میں سہولت فراہم کریں۔

انہوں نے بتایا کہ یہ افراد ان جہازوں پر موجود تھے جنہیں امریکی حکام نے تحویل میں لیا ہے اور جو اس وقت سنگاپور کے سمندری حدود کے قریب موجود ہیں۔

نائب وزیراعظم کا کہنا ہے کہ اسی سلسلے میں ایران کے وزیر خارجہ عباس عراقچی سے بھی رابطہ کیا گیا اور اس معاملے پر دونوں ممالک کے درمیان قریبی رابطہ برقرار ہے۔

اسحاق ڈار نے کہا کہ پاکستان نے ایرانی شہریوں کی محفوظ واپسی کے لیے پاکستان کے راستے ایران بھیجنے میں سہولت فراہم کرنے کی پیشکش بھی کی ہے۔

انہوں نے مزید بتایا کہ پاکستان نے سنگاپور کی جانب سے تعاون اور معاونت کو سراہا ہے تاہم وزارتِ خارجہ اور متعلقہ ادارے امریکی حکام سمیت دیگر فریقین کے ساتھ مسلسل رابطے میں ہیں تاکہ تمام متاثرہ شہریوں کی حفاظت، فلاح و بہبود اور جلد از جلد بحفاظت واپسی کو یقینی بنایا جا سکے۔

یہ پیشرفت پاکستان کی جانب سے اس سے قبل کی گئی اس سہولت کاری کے بعد سامنے آئی ہے جس کے تحت امریکا کی تحویل میں موجود ایران سے منسلک ایک جہاز کے عملے کی وطن واپسی میں مدد فراہم کی گئی تھی جس کے نتیجے میں کم از کم 15 ملاح اس ہفتے کے آغاز میں ایران واپس پہنچ چکے ہیں۔

واضح رہے کہ یہ جہاز ایران شپنگ لائن سے منسلک تھا اور اسے 19 اپریل کو خلیج عمان میں ایران کی چابہار بندرگاہ کے قریب امریکی افواج نے روکا تھا۔

اس خبر پر اپنی رائے کا اظہار کریں

اپنا تبصرہ بھیجیں