پاکستان کے شعبۂ صحت میں صنعتی اور عوامی صحت کی اصلاحات کی جانب ایک اہم پیش رفت اس وقت دیکھنے میں آئی جب ملک کے پہلے قومی پلیٹ فارم، انسٹیٹیوٹ آف پاکستان میڈیکل ڈیوائس انڈسٹری کا افتتاح کیا گیا۔
اس تقریب میں ممتاز صنعتکاروں، ماہرینِ تعلیم، پالیسی سازوں اور ریگولیٹری و عوامی صحت کے اداروں کے نمائندوں نے شرکت کی جس نے پاکستان کے ہیلتھ کیئر مینوفیکچرنگ نظام کے مستقبل پر ایک منظم قومی مکالمے کا آغاز کر دیا۔
یہ تقریب طبی ٹیکنالوجی، تشخیصی نظام اور ہیلتھ کیئر جدت طرازی کے شعبوں میں پاکستان کی صلاحیتوں کو مضبوط بنانے کے لیے مختلف اسٹیک ہولڈرز کو ایک پلیٹ فارم پر اکٹھا کرنے کا ذریعہ بنی۔
تقریب کے دوران مقررین نے صنعت کو درپیش بنیادی چیلنجز پر کھل کر گفتگو کی جن میں محدود وسائل، غیر مستقل صنعتی معاونت اور زیادہ صنعت دوست و ترقی پر مبنی پالیسیوں کی ضرورت شامل تھی۔
شرکاء کا کہنا تھا کہ اگر اختراع، سرمایہ کاری اور مقامی پیداوار کی حوصلہ افزائی کے لیے مؤثر فریم ورک تشکیل نہ دیا گیا تو صحت کا شعبہ تیزی سے بڑھتی ہوئی آبادی کی ضروریات پوری کرنے میں مشکلات کا شکار رہے گا۔
تقریب میں ڈرگ ریگولیٹری اتھارٹی آف پاکستان (ڈریپ)، ہیلتھ سروسز اکیڈمی (ایچ ایس اے)، کامسیٹس اور دیگر ممتاز قومی اداروں کے نمائندوں نے بھی شرکت کی اور اس اقدام پر بھرپور اعتماد کا اظہار کیا۔
ان کا کہنا تھا کہ ایک متحدہ پلیٹ فارم کا قیام پاکستان کی میڈیکل ڈیوائس انڈسٹری کی حکمتِ عملی اور عملی بنیادوں کو مضبوط بنانے میں اہم کردار ادا کرے گا۔
تقریب کے دوران سب سے زیادہ زیرِ بحث آنے والے موضوعات میں اکیڈمیا اور صنعت کے درمیان تعلق بھی شامل تھا۔ مقررین نے اس بات پر زور دیا کہ تعلیمی اداروں اور ہیلتھ کیئر مینوفیکچرنگ سیکٹر کے درمیان مؤثر تعاون قومی ترقی کے لیے ناگزیر ہے، ایسی شراکت داری نہ صرف تحقیق اور جدت کو فروغ دے گی بلکہ طلبہ، محققین اور ماہرین کو صنعت سے ہم آہنگ عملی مہارتیں فراہم کرکے انسانی وسائل کی ترقی میں بھی مددگار ثابت ہوگی۔
تقریب میں عوامی صحت کے پہلو پر بھی خصوصی توجہ دی گئی۔ شرکاء نے پاکستان میں بڑھتے ہوئے بیماریوں کے بوجھ، خصوصاً ہیپاٹائٹس سی اور ایچ آئی وی جیسے متعدی امراض کے پھیلاؤ پر تشویش کا اظہار کیا، خاص طور پر ایچ آئی وی انفیکشنز میں حالیہ اضافے، ان کے تدارک، تشخیص اور علاج تک رسائی کے مسائل پر گفتگو کی گئی۔
اس تناظر میں مقررین نے مقامی اور کم لاگت ہیلتھ کیئر حل کی ضرورت پر زور دیا اور کہا کہ مقامی سطح پر تیار کردہ تشخیصی ٹیکنالوجیز اور طبی آلات عوامی صحت کے بحرانوں سے نمٹنے کے لیے زیادہ عملی، پائیدار اور معاشی طور پر مؤثر ثابت ہو سکتے ہیں، خصوصاً ان پسماندہ علاقوں میں جہاں علاج کی سہولت اور استطاعت بڑی رکاوٹیں ہیں۔
تقریب کے اختتامی کلمات میں مقامی پروگرامز اور ملکی مینوفیکچرنگ صلاحیتوں پر قومی اعتماد کی اہمیت کو اجاگر کیا گیا۔
شرکاء کا کہنا تھا کہ اگر ہیپاٹائٹس سی اور ایچ آئی وی جیسے امراض کے خلاف اقدامات کو مؤثر قومی پالیسیوں، ادارہ جاتی تعاون اور مقامی صنعت پر اعتماد کے ذریعے فروغ دیا جائے تو پاکستان اپنی عوامی صحت کی پالیسیوں کو نمایاں طور پر مؤثر بنا سکتا ہے۔
انسٹیٹیوٹ آف پاکستان میڈیکل ڈیوائس انڈسٹری کا افتتاح صرف ایک ادارے کے قیام تک محدود نہیں بلکہ اسے صحت کے شعبے میں خود انحصاری، صنعتی استحکام اور پاکستان میں پائیدار عوامی صحت کے مستقبل کی جانب ایک وسیع تحریک کا آغاز قرار دیا جا رہا ہے۔




