1

کیا مصنوعی ذہانت واقعی شعور رکھتی ہے؟ معروف سائنسدان کے بیان نے نئی بحث چھیڑدی

کیا مصنوعی ذہانت واقعی شعور رکھتی ہے؟ معروف سائنسدان کے بیان نے نئی بحث چھیڑدی

اگر لوگ مصنوعی ذہانت کو حقیقی انسان سمجھنے لگے تو اس سے سماجی اور نفسیاتی مسائل پیدا ہوسکتے ہیں، ماہرین

جدید ٹیکنالوجی کے تیزی سے بدلتے دور میں ایک نئی بحث نے زور پکڑلیا ہے کہ کیا مصنوعی ذہانت واقعی شعور اور احساسات رکھ سکتی ہے؟ معروف ارتقائی ماہر حیاتیات رچرڈ ڈاکنز کے حالیہ بیان نے اس موضوع کو مزید توجہ کا مرکز بنادیا ہے۔

رچرڈ ڈاکنز نے اپنے ایک مضمون میں کہا کہ جدید مصنوعی ذہانت پر مبنی گفتگو کرنے والے نظام اتنے زیادہ ترقی یافتہ ہوچکے ہیں کہ بعض اوقات ان کے طرزِ گفتگو سے یوں محسوس ہوتا ہے جیسے ان کے اندر کوئی شعور یا اندرونی احساس موجود ہوں تاہم انہوں نے یہ واضح نہیں کیا کہ وہ مکمل طور پر اس بات پر یقین رکھتے ہیں۔

ماہرین کے مطابق مصنوعی ذہانت کے یہ نظام دراصل اربوں الفاظ اور جملوں کا تجزیہ کرکے اندازہ لگاتے ہیں کہ اگلا مناسب لفظ یا جواب کیا ہونا چاہیے۔ یہی وجہ ہے کہ ان کے جوابات انسانوں جیسے محسوس ہوتے ہیں، حالانکہ ان کے اندر حقیقی احساسات یا جذبات موجود نہیں ہوتے۔

رپورٹ میں بتایا گیا ہے کہ اس سے پہلے بھی کئی افراد مصنوعی ذہانت کو شعور رکھنے والی مخلوق سمجھ چکے ہیں۔ چند برس قبل ایک بڑی ٹیکنالوجی کمپنی کے انجینئر نے دعویٰ کیا تھا کہ کمپنی کا تیار کردہ نظام اپنے خیالات اور دلچسپیاں رکھتا ہے۔

ماہرین نفسیات اور فلسفہ کے ماہرین کا کہنا ہے کہ انسان فطری طور پر ایسی چیزوں کے ساتھ جذباتی تعلق قائم کرلیتا ہے جو انسانوں جیسا برتاؤ کریں۔ یہی وجہ ہے کہ بہت سے لوگ مصنوعی ذہانت سے بات کرتے ہوئے اسے ایک حقیقی شخصیت سمجھنے لگتے ہیں۔

تحقیق کے مطابق جدید مصنوعی ذہانت کو اس انداز میں تیار کیا جاتا ہے کہ وہ خود کو ’’میں‘‘ کہہ کر مخاطب کرے اور دوستانہ گفتگو کرے جس سے لوگوں کو اس کے شعور رکھنے کا گمان ہوتا ہے۔

ماہرین نے خبردار کیا ہے کہ اگر لوگ مصنوعی ذہانت کو حقیقی انسان سمجھنے لگے تو اس سے سماجی اور نفسیاتی مسائل پیدا ہوسکتے ہیں۔ بعض افراد ان نظاموں کے ساتھ جذباتی وابستگی اختیار کرسکتے ہیں۔

ماہرین کا مزید کہنا ہے کہ عوام کو مصنوعی ذہانت کے کام کرنے کے طریقہ کار سے آگاہ کرنا ضروری ہے تاکہ لوگ حقیقت اور مصنوعی تاثر کے درمیان فرق کو بہتر طور پر سمجھ سکیں۔

اس خبر پر اپنی رائے کا اظہار کریں

اپنا تبصرہ بھیجیں