ایرانی وفد کو ممکنہ اسرائیلی حملے سے بچانے کیلیے پاک فضائیہ کا خصوصی آپریشن؟ اہم انکشافات سامنے آ گئے
اگر آئندہ مذاکرات میں بھی ایرانی وفد کو خطرات لاحق ہوئے تو اسی نوعیت کی سیکیورٹی فراہم کی جائے گی
ایران اور امریکا کے درمیان ہونے والے اہم مذاکرات کے بعد ایک حیران کن انکشاف سامنے آیا ہے کہ اسرائیلی حملے کے خدشے کے پیش نظر پاکستان نے ایرانی وفد کو بحفاظت وطن واپس پہنچانے کیلئے خصوصی فضائی آپریشن کیا۔
بین الاقوامی خبر رساں ادارے کے مطابق ایرانی مذاکرات کاروں نے ممکنہ خطرے کی نشاندہی کی جس کے بعد پاکستانی فضائیہ حرکت میں آئی اور درجنوں جنگی طیاروں پر مشتمل ایک بڑا سیکیورٹی اسکواڈ تشکیل دیا گیا۔
اس آپریشن میں جدید فضائی نگرانی کیلئے ایئر بورن وارننگ اینڈ کنٹرول سسٹم بھی استعمال کیا گیا۔
ذرائع کے مطابق یہ آپریشن اس وقت شروع کیا گیا جب اسرائیل کی جانب سے ممکنہ حملے کا خدشہ ظاہر کیا گیا جس پر ایرانی وفد کو انتہائی سیکیورٹی کے ساتھ فضائی حدود سے گزارا گیا۔
ایک ذریعے نے بتایا کہ اگر آئندہ مذاکرات میں بھی ایرانی وفد کو خطرات لاحق ہوئے تو اسی نوعیت کی سیکیورٹی فراہم کی جائے گی بصورت دیگر پاکستانی فضائیہ صرف اپنی حدود میں استقبال کرے گی۔
دوسری جانب سفارتی ذرائع کا کہنا ہے کہ اس غیر معمولی سیکیورٹی انتظام پر پیشگی غور کیا جا رہا تھا اور آئندہ دنوں میں مذاکرات کا نیا دور بھی متوقع ہے۔
دلچسپ بات یہ ہے کہ ایک علاقائی سفارتکار کے مطابق پاکستان نے خود اس سیکیورٹی پر زور دیا اگرچہ ایرانی وفد نے خطرے کو ممکنہ قرار دیا تھا۔




