مہنگے پیٹرول نے الیکٹرک بائیکس کی مانگ بڑھادی، مارکیٹ میں شدید قلت
اس وقت الیکٹرک بائیکس کی ترسیل میں تقریباً 30 دن تک تاخیر ہورہی ہے، موٹرسائیکل ڈیلرز
کراچی: پیٹرولیم مصنوعات کی قیمتوں میں حالیہ اضافے کے بعد پاکستان میں ای وی اسکوٹرز اور موٹر سائیکلوں کی مانگ میں غیر معمولی اضافہ ہوگیا ہے جس سے مارکیٹ میں قلت پیدا ہوگئی۔
ملک بھر میں پیٹرول کی بڑھتی ہوئی قیمتوں کے باعث شہریوں کا رجحان تیزی سے ای وی موٹر سائیکلوں اور اسکوٹرز کی جانب بڑھ رہا ہے جس کے نتیجے میں مقبول ماڈلز مارکیٹ سے غائب ہونے لگے ہیں۔
نجی خبر رساں ادارے کی رپورٹ کے مطابق ڈیلرز کا کہنا ہے کہ اس وقت الیکٹرک بائیکس کی ترسیل میں تقریباً 30 دن تک تاخیر ہورہی ہے جبکہ محدود دستیابی کے باعث خریداروں سے 10 ہزار سے 15 ہزار روپے تک اضافی رقم بھی وصول کی جا رہی ہے۔
صنعتی اندازوں کے مطابق صرف اپریل کے مہینے میں تقریباً 40 ہزار الیکٹرک بائیکس فروخت ہوئیں جن میں سے لگ بھگ 90 فیصد اسکوٹرز شامل تھے تاہم طلب کے مقابلے میں رسد کم رہی۔
ایک معروف کمپنی کے سیلز ڈائریکٹر کے مطابق اسمبلرز نے چین سے پرزہ جات کے آرڈرز بڑھا دیے ہیں اور توقع ہے کہ مئی کے آخر یا جون کے آغاز تک صورتحال بہتر ہوجائے گی۔
انہوں نے کہا کہ اگر حکومتی پالیسیاں سازگار رہیں تو 2026 کے اختتام تک الیکٹرک بائیکس کی فروخت 5 لاکھ یونٹس تک پہنچ سکتی ہے۔
یاد رہے کہ حالیہ دنوں میں پیٹرول کی قیمت میں 6 روپے 51 پیسے فی لیٹر جب کہ ہائی اسپیڈ ڈیزل کی قیمت میں 19 روپے 39 پیسے فی لیٹر اضافہ کیا گیا جس کے بعد صارفین کم خرچ سفری ذرائع کی طرف متوجہ ہورہے ہیں۔
ماہرین کا کہنا ہے کہ صارفین کی ترجیحات بھی تبدیل ہورہی ہیں اور اب وہ مضبوط ڈیزائن، بڑے پہیے، بہتر جھٹکا برداشت کرنے والی معطلی اور زیادہ دیر تک چلنے والی بیٹری کے حامل اسکوٹرز کو ترجیح دے رہے ہیں۔




