1

ابھی تو ہم نے مکمل حکمت عملی شروع بھی نہیں کی، ایران کی امریکا کو وارننگ

ابھی تو ہم نے مکمل حکمت عملی شروع بھی نہیں کی، ایران کی امریکا کو وارننگ

آبنائے ہرمز میں امریکا اور اس کے اتحادیوں کی پالیسیوں کے باعث صورتحال مزید کشیدہ ہو رہی ہے

ایران کی پارلیمنٹ کے اسپیکر محمد باقر قالیباف نے کہا ہے کہ موجودہ صورتحال کے تسلسل سے امریکا پریشان ہے جبکہ ہم نے تو ابھی اپنی مکمل حکمت عملی شروع بھی نہیں کی۔

سوشل میڈیا پر جاری اپنے بیان میں محمد باقر قالیباف نے الزام عائد کیا کہ امریکا اور اس کے اتحادیوں کی جانب سے اقدامات کے نتیجے میں جنگ بندی کی خلاف ورزی ہوئی ہے جس سے آبنائے ہرمز میں جہازرانی اور توانائی کی ترسیل کو خطرات لاحق ہو گئے ہیں۔

انہوں نے کہا کہ آبنائے ہرمز میں امریکا اور اس کے اتحادیوں کی پالیسیوں کے باعث صورتحال مزید کشیدہ ہو رہی ہے اور خطے میں طاقت کا نیا توازن تشکیل پا رہا ہے۔

ایرانی پارلیمنٹ اسپیکر نے کہا کہ ایران اس صورتحال سے مکمل طور پر آگاہ ہے اور موجودہ حالات امریکا کے لیے طویل مدت تک قابلِ برداشت نہیں رہیں گے۔

محمد باقر قالیباف نے مزید کہا کہ آبنائے ہرمز میں ایک نئی ”مساوات“ جنم لے رہی ہے جس کے اثرات عالمی سطح پر مرتب ہوں گے جبکہ ایران نے ابھی اپنی مکمل حکمت عملی کا آغاز بھی نہیں کیا۔

اس سے قبل ایرانی وزیر خارجہ عباس عراقچی نے سماجی رابطے کی ویب سائٹ ایکس پر جاری اپنے بیان میں کہا تھا کہ پاکستان کی مخلصانہ کوششوں کے باعث امریکا سے مذاکرات آگے بڑھ رہے ہیں۔ آبنائے ہرمز میں پیش آنے والے حالیہ واقعات نے یہ واضح کردیا ہے کہ سیاسی بحران کا فوجی حل ممکن نہیں۔

انہوں نے کہا کہ اس نازک صورتحال میں امریکا کو ان عناصر سے محتاط رہنا چاہیے جو اسے دوبارہ تنازعات اور مشکلات میں دھکیلنے کی کوشش کر سکتے ہیں۔

ایرانی وزیر خارجہ کا مزید کہنا تھا کہ امریکا کا ”پروجیکٹ فریڈم“ دراصل ایک ”ڈیڈ لاک“ منصوبے میں تبدیل ہو چکا ہے جس کے نتائج مثبت نہیں نکل رہے۔

اس خبر پر اپنی رائے کا اظہار کریں

اپنا تبصرہ بھیجیں