جنوبی افریقہ میں اے آئی سے لکھوانے پر اے آئی پالیسی واپس لے لی گئی
قومی اے آئی پالیسی تیار کرنے والوں کے خلاف “کارروائی” کی جائے گی، وزیرِ مواصلات
مصنوعی ذہانت نے اس دور جدید میں ہر جگہ ہی اپنی اجارہ داری قائم کر لی ہے یہاں تک کہ حکومتی سطح پر بھی اہم دستاویزات کی تیاری میں اس سے مدد لی جارہی ہے ایسا ہی ایک واقعہ جنوبی افریقہ میں پیش آیا۔
جنوبی افریقہ نے حال ہی میں اپنی قومی مصنوعی ذہانت پالیسی واپس لے لی جب یہ انکشاف ہوا کہ اس کے کچھ حصے اے آئی کی مدد سے لکھے گئے تھے اور ان میں جعلی حوالہ جات شامل تھے۔
گزشتہ ماہ جنوبی افریقہ کے وزیرِ مواصلات نے اعلان کیا کہ انہوں نے ملک کی قومی اے آئی پالیسی واپس لینے کا فیصلہ کیا ہے کیونکہ اس میں شامل 67 تعلیمی حوالہ جات میں سے کم از کم 6 ایسے تھے جو دراصل اے آئی کی “ہیلوسینیشن” (یعنی فرضی یا غلط معلومات) نکلے ان حوالہ جات میں ایسے تحقیقی مضامین کا ذکر تھا جو حقیقت میں موجود ہی نہیں تھے۔
یہ بھی پڑھیں: مصنوعی ذہانت سے لیس کھلونے بچوں کیلئے کتنے محفوظ؟ ماہرین نے خبردار کردیا
وزیرِ مواصلات سولی ملاتسی نے کہا حکومتی اے آئی پالیسی میں اے آئی کے تیار کردہ حوالہ جات مناسب جانچ پڑتال کے بغیر شامل کر دیے گئے ایسا ہرگز نہیں ہونا چاہیے تھا یہ ناکامی صرف ایک تکنیکی مسئلہ نہیں بلکہ اس نے مجوزہ پالیسی کی ساکھ اور اعتبار کو متاثر کیا ہے۔
Statement on the integrity of the Draft National Artificial Intelligence Policy
Following revelations that the Draft National Artificial Intelligence Policy published for public comment contains various fictitious sources in its reference list, we initiated internal questions…
— SollyMalatsi (@SollyMalatsi) April 26, 2026
قومی اے آئی پالیسی کا مقصد جنوبی افریقہ کو اے آئی جدت میں ایک رہنما ملک کے طور پر پیش کرنا تھا جبکہ اس کے ذریعے اخلاقی، سماجی، اور معاشی چیلنجز سے نمٹنے کی کوشش بھی کی جا رہی تھی تاہم اس کے برعکس یہ پالیسی جنوبی افریقی حکومت کے لیے شرمندگی کا باعث بن گئی جب میڈیا اداروں نے انکشاف کیا کہ دستاویز کا ایک نمایاں حصہ اے آئی کے ذریعے تیار کیا گیا ہے۔
وزیرِ مواصلات نے مزید کہا یہ غلطی کسی طور پر بھی قابل قبول نہیں ہے یہ اس بات کا ثبوت ہے کہ مصنوعی ذہانت کے استعمال پر بھی محتاط نگرانی ضروری ہے۔
مسٹر ملاتسی نے کہا کہ قومی اے آئی پالیسی تیار کرنے والوں کے خلاف “کارروائی” کی جائے گی اور یہ دستاویز دوبارہ نظرثانی کے بعد عوامی مشاورت کے لیے پیش کی جائے گی۔




