1

جاپانی بھڑوں والے کریکرز کھانے لگے

جاپانی بھڑوں والے کریکرز کھانے لگے

بھڑوں میں تمام کھانے کے قابل کیڑوں کی نسبت سب سے زیادہ پروٹین ہوتا ہے

اگردنیا بھر کے عجیب و غریب اسنیکس کی بات کی جائے تو یقیناً جاپان میں بھڑوں سے بھرپورکریکرزسرفہرست ہوں گے۔

خیال رہے کہ 2010 کی دہائی کے وسط میں یہ کریکرز خبروں کی زینت بنے جب اومچی شہر کے ایک بھڑ کے شوقین کلب ’’اومچی جیباچی آئیکوکائی‘‘ نے مقامی بیکر کے ساتھ مل کر ایسے منفرد اسنیک بنائے جس میں خشک کیے گئے مکمل بھڑ موجود تھے۔

آپ کو یہ جان کر حیرت ہوگی بھڑوں میں تمام کھانے کے قابل کیڑوں کی نسبت سب سے زیادہ پروٹین ہوتا ہے اگرچہ زیادہ تر لوگ جیباچی سینبے کو پروٹین حاصل کرنے کے لیے نہیں کھاتے تاہم یہی عجیب بات اس اسنیک خاصیت ہے۔

ان مشہور بھڑ کریکرز کو بنانے کے لیے اومچی جیباچی آئیکوکائی کے بزرگ شکاری جنگل میں جال بچھاتے ہیں بھڑوں کو پکڑ کر ابالتے اور خشک کرتے ہیں پھر انہیں ایک مقامی بیکر کے حوالے کر دیتے ہیں جو انہیں کریکرز کے آٹے میں شامل کرتا ہے کہا جاتا ہے کہ آٹا ہلکا میٹھا ہوتا ہے جبکہ خشک بھڑوں کا ذائقہ جلی ہوئی کشمش جیسا محسوس ہوتا ہے جو سننے میں زیادہ مزیدار نہیں لگتا۔

اس کریکرز میں وسپولا فلاویسپس نامی بھڑ کی قسم استعمال کی جاتی ہے جو انسانوں کے کھانے کے لیے محفوظ سمجھی جاتی ہے تاہم اس کا یہ مطلب نہیں کہ یہ کوئی خاص لذیذ چیز ہے کہا جاتا ہے کہ جب آپ ان کریکرز کا پیکٹ کھولتے ہیں تو ان سے مچھلی کے چارے جیسی بو آتی ہے جو یقیناً اس اسنیک کی بہترین تشہیر نہیں۔

اومچی میں ایجاد کیے گئے یہ بھڑ والے کریکرز مقامی بازاروں اور چند خاص گورمیٹ اسٹورز میں دستیاب ہیں اور بعض سیاح صرف انہیں آزمانے کے لیے وہاں کا سفر کرتے ہیں۔

اس خبر پر اپنی رائے کا اظہار کریں

اپنا تبصرہ بھیجیں