انمول عرف پنکی کیس؛ سی ٹی ڈی کے دو اہلکاروں سے تحقیقات، اہم انکشافات سامنے آگئے
تحقیقات کی زد میں آنے والوں میں اے ایس آئی کفیل اعوان اور سپاہی علی قریشی شامل ہیں، ذرائع سی ٹی ڈی
کراچی میں منشیات فروش انمول عرف پنکی کیس کی تفتیش میں اہم پیش رفت سامنے آئی ہے، محکمہ انسداد دہشت گردی کے دو اہلکاروں کو تحقیقات کے لئے طلب کرکے پوچھ گچھ کی گئی ہے۔
سی ٹی ڈی ذرائع کے مطابق تحقیقات کی زد میں آنے والوں میں اے ایس آئی کفیل اعوان اور سپاہی علی قریشی شامل ہیں جن کی تعیناتی سی ٹی ڈی سول لائنز میں ہے۔
ذرائع کا کہنا ہے کہ دونوں اہلکاروں کے مبینہ طور پر انمول عرف پنکی کے ساتھ رابطے تھے جب کہ تفتیش کے دوران یہ بھی انکشاف سامنے آیا کہ اے ایس آئی کفیل اعوان نے چند برس قبل پنکی کے ایک رائیڈر کو گرفتار کیا تھا۔
تحقیقاتی ذرائع کے مطابق اسی رائیڈر کے ذریعے پنکی سے رابطے قائم کیے گئے اور بعد ازاں کفیل اعوان اپنے ساتھی علی قریشی کے ساتھ مل کر مبینہ طور پر پنکی کو سہولت فراہم کرنے لگا۔
سی ٹی ڈی ذرائع کا مزید کہنا ہے کہ دونوں اہلکاروں کو آج صبح دفتر طلب کیا گیا جہاں ان سے پنکی اور اس کے نیٹ ورک سے متعلق مختلف سوالات کیے گئے تاہم وہ حکام کو تسلی بخش جواب نہ دے سکے۔
دوسری جانب سی ٹی ڈی حکام نے واضح کیا ہے کہ دونوں اہلکاروں کو باضابطہ طور پر گرفتار نہیں کیا گیا بلکہ ان سے تحقیقات اور پوچھ گچھ جاری ہے۔




