6

چینی کمپنی نے تیز ترین ہیومنائیڈ روبوٹ تیار کر لیے

چینی کمپنی نے تیز ترین ہیومنائیڈ روبوٹ تیار کر لیے

چینی روبوٹکس کمپنیوں نے اعلان کیا ہے کہ ان کے انسان نما روبوٹس اب 10 میٹر فی سیکنڈ تک کی رفتار سے دوڑ سکتے ہیں

چینی کمپنیوں نے ایسے ہیومنائیڈ روبوٹ تیار کیے ہیں جن کی دوڑنے کی رفتار دنیا کے تیز ترین ایتھلیٹ یوسین بالٹ کے تقریباً برابر ہے۔

خیال رہے کہ حال ہی میں کم از کم دو چینی روبوٹکس کمپنیوں نے اعلان کیا ہے کہ ان کے انسان نما روبوٹس اب 10 میٹر فی سیکنڈ تک کی رفتار سے دوڑ سکتے ہیں۔

یوسین بالٹ دنیا کے سب سے تیز ڈورنے والے کھلاڑی ہیں وہ ایک سیکنڈ میں 12.42 میٹر تک کی رفتار بھی حاصل کر چکے ہیں جبکہ 100 میٹر ریس میں ان کی اوسط رفتار 10.44 میٹر فی سیکنڈ ہے۔

 تاہم اب ان کا یہ ریکارڈ بھی خطرے میں دکھائی دے رہا ہے کیونکہ مصنوعی ذہانت سے چلنے والے انسان نما روبوٹس حیران کن رفتار حاصل کر رہے ہیں۔

یہ بھی پڑھیں: شنگھائی میں ورلڈ اے آئی کانفرنس کا آغاز؛ انسان نما روبوٹس کی حیران کن نمائش

چینی روبوٹکس کمپنی یونی ٹری روبوٹکس نے حال ہی میں اپنے ایچ آئی روبوٹ کی ویڈیو جاری کی، جس میں اس روبوٹ 100میٹر کی دوڑ میں سابقہ روبوٹ کا عالمی ریکارڈ توڑتے ہوئے 10 میٹر فی سیکنڈ کی رفتار تک پہنچ گیا۔

کمپنی نے تسلیم کیا کہ پیمائش میں معمولی غلطی ہو سکتی ہے لیکن پھر بھی یہ کامیابی دو ٹانگوں والے روبوٹس کی نقل و حرکت کے میدان میں ایک بڑا سنگِ میل سمجھی جا رہی ہے۔

اسی طرح ایک اور چینی کمپنی مرر می نے بھی اپنا انسان نما روبوٹ پیش کیا ہے جس کا نام  بالٹ ہے جو 10 میٹر فی سیکنڈ کی رفتارسے ڈورنے کی صلاحیت رکھتا ہے۔

اس خبر پر اپنی رائے کا اظہار کریں

اپنا تبصرہ بھیجیں