1

کیا آواز کورونا وائرس کو ختم کرسکتی ہے؟ سائنس دانوں کا حیران کن دعویٰ

کیا آواز کورونا وائرس کو ختم کرسکتی ہے؟ سائنس دانوں کا حیران کن دعویٰ

آواز کی لہروں کے ذریعے لیبارٹری میں کورونا وائرس اور فلو وائرس کو غیر مؤثر بنایا جاسکتا ہے۔

سائنس دانوں نے ایک نئی تحقیق میں دعویٰ کیا ہے کہ آواز کی لہروں کے ذریعے لیبارٹری میں کورونا وائرس اور فلو وائرس کو غیر مؤثر بنایا جاسکتا ہے جس سے مستقبل میں بیماریوں کے علاج کے نئے طریقے سامنے آسکتے ہیں۔

برازیل کی ایک یونیورسٹی کے محققین کے مطابق لیبارٹری تجربات میں یہ دیکھا گیا کہ الٹرا ساؤنڈ یعنی آواز کی انتہائی باریک لہریں انفلوئنزا اور کورونا وائرس کے ذرات کو نقصان پہنچاکر انہیں ناکارہ بنادیتی ہیں۔

تحقیق میں بتایا گیا کہ ان لہروں سے پیدا ہونے والی باریک ارتعاشات وائرس کے گرد موجود حفاظتی تہہ کو توڑ دیتی ہیں جس کے نتیجے میں وائرس اپنی سرگرمی کھودیتا ہے اور انسانی خلیات کو متاثر نہیں کرپاتا۔

ماہرین کے مطابق یہ تجربات اسپتالوں میں استعمال ہونے والے جدید آلات سے کیے گئے جن میں وائرس کو مختلف فریکوئنسی کی آواز کی لہروں کے سامنے رکھا گیا۔

تحقیق میں یہ بھی سامنے آیا کہ جب ان لہروں سے متاثرہ وائرس کو خلیات کے ساتھ رکھا گیا تو ان کی بیماری پھیلانے کی صلاحیت میں نمایاں کمی دیکھی گئی۔

سائنس دانوں کا کہنا ہے کہ یہ طریقہ وائرس کی جسمانی ساخت کو نشانہ بناتا ہے، اس لیے اس کے اثرات وائرس کی تبدیلیوں کے باوجود برقرار رہ سکتے ہیں۔

تحقیق کے مطابق یہ عمل دراصل ایک خاص قسم کی توانائی کے توازن پر مبنی ہے جس میں آواز کی لہریں وائرس کے اندر جمع ہوکر اس کی ساخت کو تباہ کردیتی ہیں، بالکل اسی طرح جیسے زیادہ دباؤ سے کوئی چیز پھٹ جاتی ہے۔

ماہرین نے وضاحت کی کہ اس عمل میں نہ درجہ حرارت بڑھتا ہے اور نہ ہی کیمیائی اثرات پیدا ہوتے ہیں، اس لیے اردگرد کے خلیات محفوظ رہتے ہیں۔

اگرچہ یہ تحقیق ابھی ابتدائی مرحلے میں ہے اور صرف لیبارٹری تک محدود ہے تاہم سائنس دانوں کا کہنا ہے کہ یہ طریقہ مستقبل میں وائرس سے بچاؤ اور علاج کے لیے ایک نیا راستہ ثابت ہوسکتا ہے۔

ماہرین اب ڈینگی، زیکا اور دیگر وائرسز پر بھی اسی تکنیک کے اثرات کا مطالعہ کررہے ہیں۔

اس خبر پر اپنی رائے کا اظہار کریں

اپنا تبصرہ بھیجیں