امریکا نے شپنگ کمپنیوں کو خبردار کیا ہے کہ اگر انہوں نے ایران کو آبنائے ہرمز سے محفوظ گزرنے کے لیے ٹولز ادا کیے تو ان پر پابندیاں عائد کی جاسکتی ہیں۔
امریکی دفتر برائے غیر ملکی اثاثہ جات کنٹرول نے اپنے بیان میں کہا ہے کہ امریکی شہریوں اور کمپنیوں کے لیے ایرانی حکومتی اداروں کو ادائیگیاں کرنا عام طور پر ممنوع ہے جب کہ غیر ملکی کمپنیوں کو بھی اس سے پابندیوں کا خطرہ لاحق ہوسکتا ہے۔
ادارے کے مطابق ایران کی بندرگاہوں اور شپنگ سیکٹر سے منسلک سرگرمیاں پہلے ہی متعدد پابندیوں کے تحت آتی ہیں، اس لیے اس شعبے سے وابستہ کمپنیوں کے لیے خطرات بڑھ گئے ہیں۔
دوسری جانب ایران نے دعویٰ کیا ہے کہ اس نے آبنائے ہرمز سے گزرنے والے جہازوں سے ٹول وصول کرنا شروع کردیا ہے تاہم اس کی تفصیلات، رقم اور طریقہ کار ظاہر نہیں کیا گیا۔
امریکی حکام کے مطابق ادائیگیاں صرف نقد ہی نہیں بلکہ ڈیجیٹل کرنسی، غیر رسمی تبادلے یا دیگر طریقوں سے بھی ہوسکتی ہیں جن پر بھی پابندیوں کا اطلاق ہوگا۔
امریکی خزانے کے مطابق ایران کی تیل اور پیٹرو کیمیکل آمدنی کو روکنے کے لیے مزید سخت اقدامات کیے جارہے ہیں ج بکہ تین ایرانی فارن ایکسچینج اداروں پر بھی نئی پابندیاں عائد کی گئی ہیں۔
امریکی محکمہ خزانہ کے مطابق ایران کی حکومت کی مالی سرگرمیوں کو محدود کرنے اور پابندیوں سے بچنے والے نیٹ ورکس کے خلاف کارروائی جاری رہے گی۔
رپورٹس کے مطابق ایران اور امریکا کے درمیان جاری کشیدگی کے باعث آبنائے ہرمز میں جہازوں کی آمدورفت متاثر ہوئی ہے، جہاں پہلے ہر ماہ تقریباً 3000 جہاز گزرتے تھے تاہم اب یہ تعداد نمایاں طور پر کم ہوگئی ہے۔
یہ آبی راستہ عالمی توانائی اور تجارتی سپلائی کے لیے انتہائی اہم سمجھا جاتا ہے جس کے ذریعے تیل، خوراک اور ادویات سمیت مختلف اشیاء منتقل کی جاتی ہیں۔
اقوام متحدہ کے ادارہ برائے مہاجرین نے بھی خبردار کیا ہے کہ راستوں کی بندش اور طویل متبادل راستوں کے باعث انسانی امداد کی ترسیل متاثر ہورہی ہے اور لاگت میں نمایاں اضافہ ہوا ہے۔
ادارے کے مطابق کچھ خطوں میں امدادی سامان کی ترسیل کا وقت 25 دن تک بڑھ گیا ہے جس سے مہاجرین اور متاثرہ افراد کی مشکلات میں اضافہ ہوا ہے۔
واضح رہے کہ امریکا اور ایران کے درمیان جاری کشیدگی کے دوران محدود جنگ بندی اور مذاکرات بھی جاری ہیں تاہم کسی حتمی معاہدے تک پیش رفت نہیں ہوسکی۔




