امریکی صدر ٹرمپ کا ”پروجیکٹ فریڈم“ عارضی طور پر روکنے کا اعلان
آبنائے ہرمز میں امریکی ناکہ بندی بدستور برقرار رہے گی تاہم پروجیکٹ فریڈم کو وقتی طور پر معطل کیا جا رہا ہے، امریکا
امریکی صدر ڈونلڈ ٹرمپ نے آبنائے ہرمز میں پھنسے بحری جہازوں کو نکالنے کے لیے جاری ”پروجیکٹ فریڈم“ کو عارضی طور پر روکنے کا اعلان کردیا ہے۔
ڈونلڈ ٹرمپ نے اپنے سوشل میڈیا پلیٹ فارم ٹرتھ سوشل پر جاری بیان میں کہا کہ یہ فیصلہ پاکستان سمیت مختلف ممالک کی درخواستوں اور ایران کے خلاف حالیہ کارروائیوں میں کامیابی کے بعد کیا گیا ہے۔
انہوں ںے کہا کہ ایران کے نمائندوں کے ساتھ ایک جامع اور حتمی معاہدے کی جانب نمایاں پیش رفت ہوچکی ہے جس کے پیش نظر عارضی طور پر اس منصوبے کو روکنے کا فیصلہ کیا گیا۔
صدر ٹرمپ نے واضح کیا کہ اگرچہ آبنائے ہرمز میں امریکی ناکہ بندی بدستور برقرار رہے گی تاہم بحری جہازوں کی محفوظ آمد و رفت سے متعلق ”پروجیکٹ فریڈم“ کو وقتی طور پر معطل کیا جا رہا ہے تاکہ معاہدے کی پیش رفت کا جائزہ لیا جا سکے۔
قبل ازیں وائٹ ہاؤس میں صحافیوں سے گفتگو کرتے ہوئے امریکی صدر ڈونلڈ ٹرمپ نے ایران کے حوالے سے سخت مؤقف اختیار کرتے ہوئے کہا تھا کہ ایران اب کمزور ہوچکا ہے اور اس کے پاس کوئی موقع باقی نہیں رہا۔
انہوں نے دعویٰ کیا کہ امریکا اپنی تاریخ کے سنہری دور میں داخل ہوچکا ہے جب کہ ایران خود بھی اس حقیقت سے آگاہ ہے کہ اس کے پاس اب کوئی چانس نہیں رہا۔
— Rapid Response 47 (@RapidResponse47) May 5, 2026
صدر ٹرمپ نے کہا کہ غیرجانبدار ممالک کے جہازوں کو ہرمز سے بحفاظت گزارنے کے لیے اقدامات کیے جائیں گے اور اس اقدام کو انسانی ہمدردی کے جذبے کے تحت اٹھایا جا رہا ہے جبکہ ہرمز میں پھنسے متعدد جہازوں پر خوراک اور دیگر ضروری اشیا کی شدید قلت پیدا ہوچکی ہے۔
انہوں نے کہا کہ یہ پیش رفت امریکا، مشرقِ وسطیٰ اور بالخصوص ایران کے درمیان خیرسگالی بڑھانے میں اہم کردار ادا کر سکتی ہے۔
ٹرمپ نے خبردار کیا کہ اگر اس مشن میں کسی قسم کی رکاوٹ ڈالی گئی تو سخت ردعمل دیا جائے گا۔ کئی ایسے ممالک جو تنازع کا حصہ نہیں۔




