2

برف میں چھپے راز نے زمین کے 80 ہزار سالہ خلائی سفر سے پردہ اٹھادیا

برف میں چھپے راز نے زمین کے 80 ہزار سالہ خلائی سفر سے پردہ اٹھادیا

زمین کا نظامِ شمسی ایک ایسے خلائی بادل سے گزر رہا ہے جو تباہ شدہ ستاروں کی گرد اور ذرات سے بھرا ہوا ہے۔

ماہرین نے انٹارکٹکا کی قدیم برف میں ایسے نایاب ذرات دریافت کیے ہیں جن سے زمین اور نظامِ شمسی کے ہزاروں برس پر محیط خلائی سفر کے بارے میں اہم معلومات سامنے آئی ہیں۔

جرمنی کے سائنس دانوں کی قیادت میں ہونے والی تحقیق کے مطابق برف کے نمونوں میں لوہے کی ایک نایاب قسم پائی گئی جو صرف تب بنتی ہے جب کوئی عظیم ستارہ دھماکے سے تباہ ہوتا ہے۔

اس دریافت سے اندازہ لگایا گیا ہے کہ زمین کا نظامِ شمسی ایک ایسے خلائی بادل سے گزر رہا ہے جو تباہ شدہ ستاروں کی گرد اور ذرات سے بھرا ہوا ہے۔

ماہرین کے مطابق انٹارکٹکا کی برف کروڑوں برسوں سے تہہ در تہہ جمع ہوتی رہی ہے۔ ہر نئی برفانی تہہ میں فضا کے ذرات محفوظ ہوتے گئے جس سے یہ برف زمین کی تاریخ کا قدرتی ریکارڈ بن گئی۔

تحقیق کے دوران سائنس دانوں نے ہزاروں سال پرانی برف پگھلاکر اس میں موجود نایاب ذرات کا جائزہ لیا۔ انہیں 40 ہزار سے 81 ہزار سال پرانی برف میں بھی لوہے کے وہی ذرات ملے جو چند برس قبل تازہ برف میں دریافت ہوئے تھے۔

ماہرین کا کہنا ہے کہ یہ ذرات زمین پر قدرتی طور پر پیدا نہیں ہوسکتے، اس لیے ان کا خلا سے آنا یقینی ہے۔ تحقیق سے معلوم ہوا کہ زمین کا نظامِ شمسی گزشتہ کم از کم 80 ہزار برس سے ایک ایسے خلائی بادل کے اندر سفر کررہا ہے جس میں تباہ شدہ ستاروں کی گرد پھیلی ہوئی ہے۔

سائنس دانوں کے مطابق مختلف ادوار کی برف میں ان ذرات کی مقدار مختلف پائی گئی جس سے ظاہر ہوتا ہے کہ یہ خلائی بادل ہر جگہ یکساں نہیں بلکہ کہیں زیادہ گھنا اور کہیں کم گھنا ہے۔

ماہرین نے اس دریافت کو نہایت اہم قرار دیتے ہوئے کہا ہے کہ انٹارکٹکا کی برف دراصل زمین کے خلائی سفر کا ریکارڈ محفوظ کیے ہوئے ہے جس کی مدد سے کائنات اور نظامِ شمسی کے ماضی کو بہتر انداز میں سمجھا جاسکتا ہے۔

اس خبر پر اپنی رائے کا اظہار کریں

اپنا تبصرہ بھیجیں