جنگ یا ڈیل، امریکا کے پاس فیصلے کا وقت ختم ہوتا جا رہا ہے، ایران پاسداران انقلاب
اگر کشیدگی بڑھی تو امریکی بحری بیڑے اور فوج کو سنگین نتائج کا سامنا کرنا پڑ سکتا ہے۔ ایرانی حکام
ایران اور امریکا کے درمیان بڑھتی کشیدگی ایک نئے موڑ میں داخل ہو گئی ہے، جہاں ایرانی قیادت نے سخت پیغامات کے ساتھ سفارتی راستہ بھی کھلا رکھا ہے۔
ایران کے انٹیلی جنس یونٹ پاسداران انقلاب نے خبردار کیا ہے کہ واشنگٹن کے پاس فیصلوں کی گنجائش تیزی سے ختم ہو رہی ہے اور اب اسے ناممکن فوجی مہم جوئی یا ایک “تلخ ڈیل” میں سے کسی ایک کا انتخاب کرنا ہوگا۔
ایرانی سپریم لیڈر کے مشیر محسن رضائی نے امریکا پر سخت تنقید کرتے ہوئے اسے “دنیا کا واحد بحری ڈاکو” قرار دیا اور کہا کہ ایران کے پاس اپنے دفاع اور دشمن کو روکنے کی مکمل صلاحیت موجود ہے۔
انہوں نے خبردار کیا کہ اگر کشیدگی بڑھی تو امریکی بحری بیڑے اور فوج کو سنگین نتائج کا سامنا کرنا پڑ سکتا ہے، جبکہ اصفہان میں پیش آنے والے واقعات کو بھی یاد رکھنے کا کہا گیا۔
دوسری جانب پاکستان میں تعینات ایرانی سفیر رضا امیری مقدم نے ایک انٹرویو میں تصدیق کی ہے کہ ایران نے اپنی نئی تجاویز پاکستان کے ذریعے امریکا تک پہنچا دی ہیں۔ ان کا کہنا تھا کہ مذاکرات کا دارومدار اب امریکی رویے پر ہے اور اگر واشنگٹن واقعی مسائل کے حل میں سنجیدہ ہے تو اسے اپنا طرزعمل تبدیل کرنا ہوگا۔
ایرانی سفیر کے مطابق پاکستان اس پورے سفارتی عمل میں مرکزی ثالث کا کردار ادا کر رہا ہے اور دونوں ممالک کے درمیان پیغامات کا تبادلہ بدستور جاری ہے۔ انہوں نے کہا کہ ایران نے کسی بھی سطح پر ثالث کی تبدیلی کا کوئی فیصلہ نہیں کیا اور پاکستانی کوششوں کو تہران میں قدر کی نگاہ سے دیکھا جا رہا ہے۔
رضا امیری مقدم کا کہنا تھا کہ ایران کا نیا مذاکراتی منصوبہ خطے میں جاری کشیدگی کے خاتمے اور ممکنہ جنگ کو روکنے کے لیے تیار کیا گیا ہے، جبکہ متعدد بین الاقوامی ذرائع نے بھی تصدیق کی ہے کہ یہ تجاویز پاکستان کے ذریعے امریکی حکام تک پہنچائی جا چکی ہیں۔
تجزیہ کاروں کے مطابق موجودہ صورتحال میں پاکستان کا کردار انتہائی اہمیت اختیار کر گیا ہے، جہاں ایک جانب سخت بیانات کا تبادلہ جاری ہے تو دوسری جانب سفارت کاری کے دروازے بھی بند نہیں ہوئے۔




