6

دو ہزار سال پرانا رومی جہاز کا راز بے نقاب، ماہرین نے حیران کن ٹیکنالوجی دریافت کرلی

دو ہزار سال پرانا رومی جہاز کا راز بے نقاب، ماہرین نے حیران کن ٹیکنالوجی دریافت کرلی

یہ جہاز تقریباً بائیس سو سال قبل سمندر میں غرق ہوا تھا۔

ماہرینِ آثار قدیمہ نے دو ہزار سال قبل کے ایک رومی جہاز کے ملبے سے ایسی معلومات حاصل کی ہیں جو اس دور کی جدید سمندری مہارت کو ظاہر کرتی ہیں۔

یہ جہاز تقریباً بائیس سو سال قبل سمندر میں غرق ہوا تھا اور حالیہ تحقیق میں معلوم ہوا ہے کہ اس زمانے کے کاریگر اپنے جہازوں کو طویل عرصے تک محفوظ رکھنے کے لیے خاص طریقے استعمال کرتے تھے۔

تحقیق کے مطابق لکڑی سے بنے اس جہاز کو پانی سے محفوظ رکھنے کے لیے درختوں کی رال سے تیار کردہ مادہ استعمال کیا گیا جب کہ مختلف مراحل پر اس پر نئی تہہ بھی چڑھائی جاتی رہی تاکہ اس کی مضبوطی برقرار رہے۔

ماہرین کا کہنا ہے کہ جہاز کے کچھ حصوں پر شہد کی موم اور رال کا مرکب بھی پایا گیا جس سے یہ ظاہر ہوتا ہے کہ اس دور میں بھی جہازوں کی دیکھ بھال کے لیے مختلف قدرتی اجزاء استعمال کیے جاتے تھے۔

یہ ملبہ ایک ساحلی علاقے میں کم گہرائی میں دریافت ہوا تھا اور وقت کے ساتھ مٹی اور پتھروں کے نیچے دب جانے کے باعث محفوظ رہا جس کی وجہ سے اس کی لکڑی اور دیگر اجزاء خراب ہونے سے بچ گئے۔

ماہرین نے اس ملبے سے حاصل کیے گئے نمونوں کا مختلف طریقوں سے تجزیہ کیا جس میں پودوں کے ذرات بھی شامل تھے۔ ان ذرات سے اندازہ لگایا گیا کہ جہاز کی مرمت اور دیکھ بھال مختلف مقامات پر کی جاتی رہی۔

تحقیق سے یہ بھی پتا چلا کہ اس جہاز پر کئی بار حفاظتی تہیں لگائی گئیں جس سے ظاہر ہوتا ہے کہ قدیم دور میں بھی طویل سفر کرنے والے جہازوں کی باقاعدہ دیکھ بھال کی جاتی تھی۔

ماہرین کہتے ہیں کہ یہ دریافت نہ صرف قدیم رومی دور کی ٹیکنالوجی کو سمجھنے میں مدد دیتی ہے بلکہ یہ بھی ظاہر کرتی ہے کہ اس زمانے میں جہاز سازی اور ان کی حفاظت کے طریقے انتہائی ترقی یافتہ تھے۔

اس خبر پر اپنی رائے کا اظہار کریں

اپنا تبصرہ بھیجیں