8

عالمی افق پر پاکستان کا ابھرتا کردار

امریکی جامعہ ہارورڈ یونیورسٹی میں 12 اپریل کو پاکستان کانفرنس 2026 کا انعقاد کیا گیا جس میں مختلف شعبوں سے تعلق رکھنے والے بین الاقوامی ماہرین، تجزیہ کاروں اور نمایاں شخصیات نے شرکت کی۔

کانفرنس میں 700 سے زائد شرکاء، 50 سے زیادہ مقررین اور 17 سے زائد سیشنز منعقد کیے گئے جسے پاکستان کے بارے میں بڑھتی ہوئی عالمی دلچسپی کا عکاس قرار دیا جا رہا ہے۔

تقریب میں پاکستان کے امریکا میں سفیر رضوان سعید شیخ، وزیر خزانہ محمد اورنگزیب، سابق مشیر قومی سلامتی معید یوسف، سابق وزیر خارجہ حنا ربانی کھر اور صحافی عاصمہ شیرازی سمیت متعدد شخصیات شریک ہوئیں۔

اسی طرح شہباز تاثیر، حسن شہریار یاسین، فیصل کپاڈیا اور اداکارہ ماہرہ خان سمیت دیگر نمایاں پاکستانی شخصیات بھی کانفرنس کا حصہ بنیں۔

بین الاقوامی مندوبین میں مائیکل کوگل مین، کرس وین ہولن اور ہارورڈ یونیورسٹی کے پروفیسرز شامل تھے جنہوں نے پاکستان سے متعلق مختلف موضوعات پر مباحثوں میں حصہ لیا۔

کانفرنس میں پاکستان کی تخلیقی صلاحیتوں، سماجی جدت، خارجہ پالیسی، ڈیجیٹل ٹرانسفارمیشن، ثقافت، تعلیم، صحت اور میڈیا جیسے موضوعات پر تفصیلی سیشنز منعقد کیے گئے۔

شرکاء نے پاکستان کی آزاد اور متوازن خارجہ پالیسی کو سراہا اور اسے خطے میں امن و استحکام کے لیے اہم قرار دیا۔ بھارت کے مبینہ جارحانہ رویے کو خطے میں امن کے لیے چیلنج کے طور پر بھی زیر بحث لایا گیا۔

شرکاء نے دہشت گردی کے خلاف جنگ میں پاکستان کی قربانیوں کو بھی تسلیم کیا اور کہا کہ ملک کے اسٹریٹجک حالات ایک فعال ریاستی کردار کا تقاضا کرتے ہیں۔

اس کے علاوہ پاکستان میں جاری ڈیجیٹل انقلاب، اقتصادی اصلاحات اور بیرون ملک مقیم پاکستانیوں کی صلاحیتوں کو بھی اجاگر کیا گیا۔

بعض شرکاء کی جانب سے کہا گیا کہ اقتصادی اصلاحات کے باعث پاکستان کی معیشت کو استحکام ملا ہے۔

کانفرنس میں یہ بھی کہا گیا کہ خطے خصوصاً مشرق وسطیٰ کی صورتحال نے عالمی سطح پر معاشی چیلنجز میں اضافہ کیا ہے۔

مقررین نے پاکستان میں مختلف مذاہب کے درمیان رواداری کو اجاگر کرتے ہوئے کہا کہ ریاستی سطح پر کسی قسم کی مذہبی یا فرقہ وارانہ تفریق موجود نہیں۔ سندھ میں ہندو برادری کے کردار اور پاکستان میں تاریخی مذہبی مقامات خصوصاً گرجا گھروں کی موجودگی کو بھی سراہا گیا۔

تقریب میں ثقافت اور آرٹ سے وابستہ مندوبین نے پاکستان کے متنوع ثقافتی ورثے کو اجاگر کیا جب کہ عاصمہ شیرازی نے پاکستانی صحافیوں کے جمہوریت اور آئین کی بالادستی کے لیے کردار پر روشنی ڈالی۔

اس خبر پر اپنی رائے کا اظہار کریں

اپنا تبصرہ بھیجیں