مظفرآباد میں پی ٹی آئی کا پاور شو پھیکا، خالی کرسیوں نے سیاسی دعویٰ بے نقاب کر دیا
مبصرین کا کہنا ہے کہ یہ جلسہ دراصل پارٹی کی خیبر پختونخوا سے باہر رسائی دکھانے کی کوشش تھا
پاکستان تحریک انصاف کی جانب سے مظفرآباد میں منعقدہ جلسہ جسے خیبر پختونخوا سے باہر سیاسی طاقت کے مظاہرے کے طور پر پیش کیا جا رہا تھا توقعات پر پورا نہ اتر سکا۔
پارٹی نے اس ایونٹ کے لیے بھرپور تیاری کی تھی جس میں 1100 سے زائد کرسیاں، بینرز اور میڈیا کوریج کے ذریعے بڑے اجتماع کا تاثر دیا گیا۔ تاہم عملی طور پر حاضری اس سطح تک نہ پہنچ سکی اور سینکڑوں نشستیں خالی رہ گئیں۔
جلسے میں کے پی وزیر اعلیٰ سہیل آفریدی کی شرکت کو مرکزی حیثیت دی گئی تھی مگر ان کے خطاب کے دوران بھی بڑی تعداد میں کرسیاں خالی دکھائی دیں جس سے جلسے کی مجموعی فضا متاثر ہوئی۔
سیاسی تجزیہ کاروں کے مطابق یہ صورتحال محض کم حاضری کا معاملہ نہیں بلکہ جماعت کی زمینی سطح پر تنظیمی کمزوری کی نشاندہی بھی کرتی ہے جس جماعت نے ماضی میں بڑے شہروں میں بھرپور عوامی اجتماعات کیے اس کے لیے مظفرآباد میں ہدف کے مطابق شرکت نہ ہونا ایک اہم اشارہ سمجھا جا رہا ہے۔
مبصرین کا کہنا ہے کہ یہ جلسہ دراصل پارٹی کی خیبر پختونخوا سے باہر رسائی دکھانے کی کوشش تھا تاہم نتائج اس کے برعکس سامنے آئے ان کے مطابق سیاسی مقبولیت کا اندازہ دعوؤں یا انتظامات سے نہیں بلکہ عوامی شرکت سے لگایا جاتا ہے۔
یاد رہے کہ مظفرآباد میں ہونے والا یہ جلسہ پارٹی کے لیے ایک موقع تھا مگر کمزور شرکت نے اسے ایک چیلنج میں بدل دیا جس پر پارٹی قیادت کو آئندہ حکمت عملی پر نظرثانی کرنا پڑ سکتی ہے۔




