میانمار میں خزانہ نکل آیا؟ 11 ہزار قیراط کے نایاب یاقوت نے دنیا کو حیران کردیا
اس یاقوت کی اصل مالیت کا اندازہ لگانے کا عمل جاری ہے۔
میانمار میں ایک نہایت قیمتی اور نایاب سرخ یاقوت دریافت ہوا ہے جس کا وزن 11 ہزار قیراط بتایا جارہا ہے۔
میانمار کے سرکاری اخبار میں شائع تصاویر کے مطابق صدر من آنگ ہلینگ نے اپنے دفتر میں اس قیمتی پتھر کا معائنہ کیا۔ بتایا گیا ہے کہ یہ یاقوت موگوک کے علاقے سے نکالا گیا جو دنیا بھر میں قیمتی پتھروں خصوصاً اعلیٰ معیار کے یاقوتوں کے لیے مشہور ہے۔
حکومتی بیان کے مطابق دریافت ہونے والا یاقوت غیر معمولی طور پر بڑا، نایاب اور اعلیٰ معیار کا حامل ہے۔ اس کا رنگ گہرا سرخی مائل جامنی بتایا گیا ہے جس میں ہلکی زردی کی جھلک بھی موجود ہے۔ ماہرین کے مطابق اس کا رنگ اور شفافیت اسے انتہائی قیمتی بناتے ہیں۔
اگرچہ 1996 میں اسی علاقے سے اس سے بڑا 21 ہزار 450 قیراط وزنی یاقوت بھی دریافت ہوچکا ہے تاہم حکام کا کہنا ہے کہ حالیہ پتھر اپنی بہتر رنگت، صفائی اور معیار کے باعث زیادہ قیمتی تصور کیا جارہا ہے۔
موگوک کا علاقہ صدیوں سے قیمتی پتھروں کی وجہ سے شہرت رکھتا ہے۔ ماضی میں بادشاہوں اور حکمرانوں کے درمیان بھی اس علاقے پر قبضے کے لیے لڑائیاں ہوتی رہی ہیں۔ یہاں سے نکلنے والے یاقوت دنیا کے مہنگے ترین قیمتی پتھروں میں شمار ہوتے ہیں۔
ماہرین کا کہنا ہے کہ اس نایاب دریافت کے بعد میانمار ایک بار پھر عالمی توجہ کا مرکز بن گیا ہے جب کہ اس یاقوت کی اصل مالیت کا اندازہ لگانے کا عمل جاری ہے۔




