گرمی میں فالسہ کھانا کیوں ضروری ہے؟
شدید گرمی اور لو میں فالسے کا شربت سن اسٹروک سے محفوظ رکھتا ہے
موسم گرما اپنے ساتھ کئی سوغاتیں لے کر آتی ہیں ان ہی میں کھٹا میٹھا ذائقہ لیے فالسہ بھی شامل ہے۔
طبی اور غذائی فوائد کے حامل فالسےمیں وٹامن اے، بی اور سی موجود ہیں،اس کے علاوہ نشاستہ، لحمیات، فولاد، پوٹاشیم، کیرٹین، آیوڈین اور کیلشیم کے اجزاء موجود ہوتےہیں۔ ایک پاؤ فالسہ سے 80کیلوریزحاصل کی جاسکتی ہیں۔
ماہرین کا کہنا ہے کہ فالسہ کا استعمال گرمی کی شدت سے محفوظ رہنے اور پیاس بجھانے کا اہم ذریعہ ہے۔
یہ سرد تاثیر کا حامل پھل ہے جس کی وجہ سے معدے کی گرمی، سینے کی جلن، مسوڑھوں سے خون آنا، معدے کے السر اور شوگر میں کمی کرتا ہے۔
فالسہ معدہ و جگر کو تقویت دیتا ہے اور جسم سے گرمی کا اخراج کرتا ہے, دل کو بھی صحت مند رکھتا ہے فالسہ اینٹی آکسیڈنٹس سے بھرپور پھل ہے جس سے کینسر کے خطرے میں کمی کی جاسکتی ہے۔
فالسہ خون کو صاف کرتا ہے جس سے جلد بھی شفاف اور صحت مند رہتی ہےاس کا جوس نظام ہاضمہ کے لیے بہترین ہے۔ یہ نظام ہاضمہ کے افعال کو کنٹرول کرتا ہے۔
یہ جسم کو ٹھنڈک پہنچانے کے ساتھ جسم میں پانی کی کمی کو دور بھی کرتا ہے شدید گرمی اور لو میں فالسے کا شربت سن اسٹروک سے محفوظ رکھتا ہے۔
ماہرین کے مطابق ترش اور نیم پختہ فالسے کا استعمال نقصان دہ ہو سکتا ہے اس لیے ہمیشہ پکا ہوا اور میٹھا فالسہ استعمال کیا جانا چاہیئے۔




