نائب صدر نے بتایا کہ مذاکرات کے دوران دونوں ممالک کے وفود کے درمیان براہ راست اور تکنیکی سطح پر تفصیلی بات چیت ہوئی، جبکہ مسودوں کا بھی تبادلہ کیا گیا۔ تاہم، دونوں فریق کسی ایسے نکتے پر متفق نہ ہو سکے جہاں ایران امریکی شرائط قبول کرتا۔
انہوں نے کہا کہ ڈونلڈ ٹرمپ کی ہدایت کے مطابق امریکی وفد نے نیک نیتی کے ساتھ مذاکرات میں حصہ لیا اور بھرپور لچک کا مظاہرہ کیا، لیکن اس کے باوجود کوئی پیشرفت نہ ہو سکی۔
نائب صدر کے مطابق امریکہ کی بنیادی شرط یہ تھی کہ ایران اس بات کی واضح یقین دہانی کرائے کہ وہ ایٹمی ہتھیار تیار نہیں کرے گا اور نہ ہی اس کے لیے درکار صلاحیت یا آلات حاصل کرے گا۔ انہوں نے دعویٰ کیا کہ ایران کی جانب سے اس حوالے سے مطلوبہ آمادگی سامنے نہیں آئی۔
جے ڈی وینس نے کہا کہ امریکہ ایک سادہ تجویز کے ساتھ آگے بڑھ رہا ہے جس میں افہام و تفہیم کا طریقہ کار وضع کرنا شامل ہے، اور یہ امریکہ کی “حتمی اور بہترین پیشکش” ہے۔ اب یہ دیکھنا باقی ہے کہ آیا ایران اسے قبول کرتا ہے یا نہیں۔
انہوں نے مزید کہا کہ مذاکرات کے دوران وہ مسلسل صدر ٹرمپ اور قومی سلامتی ٹیم کے دیگر اراکین کے ساتھ رابطے میں رہے۔
نائب صدر نے پاکستان کے کردار کو سراہتے ہوئے شہباز شریف اور سید عاصم منیر کا خصوصی شکریہ ادا کیا، جنہوں نے دونوں ممالک کے درمیان فاصلے کم کرنے اور معاہدے کی کوششوں میں اہم کردار ادا کیا۔
آخر میں انہوں نے کہا کہ معاہدہ نہ ہونا ایران کے لیے امریکہ کی نسبت زیادہ نقصان دہ ثابت ہو سکتا ہے، جبکہ مذاکرات کی تمام تفصیلات عوامی طور پر بیان نہیں کی جا سکتیں۔
امریکی نائب صدر جے ڈی وینس اپنے دورہء پاکستان کے بعد واپس امریکہ روانہ ہوگئے۔
نائب وزیرِ اعظم و وزیرِ خارجہ سینیٹر اسحاق ڈار اور آرمی چیف و چیف آف ڈیفینس فورسز فیلڈ مارشل سید عاصم منیر نامریکی نائب صدر کو الوداع کیا۔




