آئی ایم ایف کا سرکاری اداروں کی خطیر رقم سنگل ٹریژی اکاؤنٹ میں ڈپازٹ نہ ہونے پر اظہارتشویش
سرکاری اداروں کے 1 ہزار ارب روپے سے زیادہ سنگل ٹریژی اکاؤنٹس کی بجائے اداروں کے ذاتی اکاؤنٹس میں ڈپازٹ ہیں
آئی ایم ایف نے سرکاری اداروں کی خطیر رقم سنگل ٹریژی اکاؤنٹ میں ڈپازٹ نہ ہونے پر تشویش کا اظہار کرتے ہوئے مطالبہ کیا کہ پبلک فنانس مینجمنٹ ایکٹ کو مکمل فعال کر کے تمام رقم سنگل ٹریژی اکاؤنٹ میں منتقل کی جائے۔
ذرائع وزارت خزانہ کے مطابق سرکاری اداروں کے 1 ہزار ارب روپے سے زیادہ سنگل ٹریژی اکاؤنٹس کی بجائے اداروں کے ذاتی اکاؤنٹس میں ڈپازٹ ہیں۔
حکومت نے عالمی مالیاتی ادارے کو 290 ارب مالیت کے 70 سرکاری اداروں کے اکاؤنٹس کو سنگل ٹریژی اکاؤنٹس میں شامل کرنے کی یقین دہانی کرائی ہے۔
ذرائع کا کہنا ہے کہ حکومت 242 اکاؤنٹس سنگل ٹریژی اکاؤنٹ کا حصہ بنا چکی جہاں تقریباً 200 ارب روپے شامل ہیں تاہم اب بھی 2 سو سے زائد ایس او ایز کے ایک ٹریلین روپے سنگل ٹریژی اکاؤنٹ کی بجائے کمرشل بینک اکاونٹس میں ڈپازٹ ہیں۔
ذرائع وزارت خزانہ نے بتایا کہ آئی ایم ایف مسلسل نظر رکھے ہوئے ہے اور پاکستان پر زور دے رہا ہے کہ وہ پرانی روایت کو ختم کرے اس اقدام سے نہ صرف کیش مینجمنٹ بہتر ہوگی بلکہ غیر ضروری قرض لینے کی ضرورت بھی کم پڑے گی۔
ذرائع کے مطابق 2026 سے 2028 حکمت عملی کے تحت قلیل مدتی قرضوں کو بتدریج طویل مدتی قرضوں میں تبدیل کیا جائے گا جبکہ سرمایہ کاری کے مواقع بڑھانے کے لیے حکومت نے ڈیجیٹل پلیٹ فارمز کے ذریعے حکومتی سیکیورٹیز کی فروخت کو فروغ دینے فیصلہ کیا ے۔
عام سرمایہ کاروں کی رسائی آسان کرنے کے لیے حکومت اور آئی ایم ایف کے درمیان ستمبر 2026 تک ڈیڈ لائن طے ہے۔




