جرمنی سے امریکی فوجیوں کے انخلا پر نیٹو کا ردعمل سامنے آگیا
امریکی فوجیوں میں کمی دراصل جرمنی پر دباؤ بڑھانے کی ایک حکمت عملی بھی ہوسکتی ہے، تجزیہ کار
نیٹو کا کہنا ہے کہ وہ جرمنی سے تقریباً 5 ہزار امریکی فوجیوں کے انخلا کے فیصلے کی تفصیلات کا جائزہ لے رہا ہے۔
غیر ملکی میڈیا کے مطابق نیٹو کی ترجمان ایلیسن ہرٹ نے بیان میں کہا کہ امریکا کے ساتھ مل کر جرمنی میں فوجی موجودگی سے متعلق فیصلے کی نوعیت کو سمجھنے کی کوشش کررہے ہیں جب کہ پینٹاگون کے مطابق یہ عمل آئندہ 6 سے 12 ماہ میں مکمل ہوگا۔
یاد رہے کہ یہ فیصلہ ایسے وقت میں سامنے آیا ہے جب امریکی صدر یورپی ممالک پر ایران کے خلاف جاری تنازع میں تعاون نہ کرنے پر تنقید کا نشانہ بنارہے ہیں جس میں جرمن چانسلر فرینڈرک مرز سرفہرست ہیں۔
دوسری جانب تجزیہ کاروں کا کہنا ہے کہ امریکی فوجیوں میں کمی دراصل جرمنی پر دباؤ بڑھانے کی ایک حکمت عملی بھی ہوسکتی ہے جس میں یورپی یونین کی گاڑیوں پر ممکنہ ٹیرف جیسے اقدامات بھی شامل ہیں۔
سابق امریکی سفارتکار ڈونلڈ جینسن کے مطابق یہ اقدام امریکا کی بدلتی ہوئی فوجی ترجیحات کی عکاسی کرتا ہے اور اس بات کا اشارہ دیتا ہے کہ واشنگٹن مستقبل میں اپنی توجہ یورپ کے بجائے دیگر خطوں، خصوصاً چین کی جانب منتقل کرسکتا ہے۔
انہوں نے کہا کہ اس فیصلے سے یورپ کے سیکیورٹی نظام میں مستقل تبدیلی آسکتی ہے جس کی حتمی شکل ابھی واضح نہیں تاہم امریکا اپنے اتحادیوں کے ساتھ تعلقات کو زیادہ مفاداتی انداز میں دیکھ رہا ہے۔
جرمن وزیر دفاع بورس پسٹوریس نے ردعمل دیتے ہوئے کہا کہ جرمنی کو پہلے ہی اس امکان کا اندازہ تھا اور اب یورپی ممالک کو اپنی سیکیورٹی کی ذمہ داری خود زیادہ اٹھانا ہوگی۔
انہوں نے کہا کہ جرمنی اپنی فوجی صلاحیت بڑھانے، جدید آلات کی تیز رفتار خریداری اور دفاعی انفراسٹرکچر کو مضبوط بنانے پر کام کررہا ہے۔
نیٹو ترجمان نے بھی اس مؤقف کی تائید کرتے ہوئے کہا کہ امریکی فیصلے سے واضح ہوتا ہے کہ یورپ کو دفاعی اخراجات میں اضافہ کرنا ہوگا اور مشترکہ سیکیورٹی کے لیے زیادہ کردار ادا کرنا ہوگا۔
واضح رہے کہ گزشتہ سال ہونے والے نیٹو سربراہی اجلاس میں رکن ممالک نے دفاعی اخراجات کو بڑھا کر 5 فیصد تک لے جانے پر اتفاق کیا تھا جو پہلے مقررہ 2 فیصد ہدف سے کہیں زیادہ ہے۔




