2

سوشل میڈیا پر صحت سے متعلق معلومات؛ ماہرین نے خطرات سے آگاہ کردیا

سوشل میڈیا پر صحت سے متعلق معلومات؛ ماہرین نے خطرات سے آگاہ کردیا

بڑی تعداد میں لوگ صحت سے متعلق معلومات سوشل میڈیا سے حاصل کررہے ہیں۔

سوشل میڈیا پر صحت اور فٹنس سے متعلق مشوروں، ویڈیوز اور معلومات میں تیزی سے اضافہ دیکھا جارہا ہے تاہم ماہرین نے خبردار کیا ہے کہ ان معلومات پر اندھا اعتماد نقصان دہ بھی ثابت ہوسکتا ہے۔

ایک تازہ سروے کے مطابق بڑی تعداد میں لوگ اپنی صحت سے متعلق معلومات سوشل میڈیا اور پوڈکاسٹس سے حاصل کررہے ہیں۔ خاص طور پر نوجوان نسل اس رجحان کی طرف زیادہ مائل ہے۔

سروے میں یہ بھی سامنے آیا کہ صحت سے متعلق مواد شیئر کرنے والے بہت سے افراد باقاعدہ طبی ماہر نہیں ہوتے جب کہ ایسے افراد میں ایک بڑا حصہ خود کو ’’کوچ‘‘ یا ذاتی تجربے کی بنیاد پر رہنما کے طور پر پیش کرتا ہے اورکچھ افراد کاروباری مقاصد کے تحت بھی یہ مواد شیئر کرتے ہیں۔

ماہرین کے مطابق سوشل میڈیا پر موجود ہر رائے کو درست سمجھنا خطرناک ہوسکتا ہے کیونکہ بعض اوقات معلومات جذباتی انداز میں پیش کی جاتی ہیں تاکہ زیادہ سے زیادہ توجہ حاصل کی جاسکے۔ اس طرح کی پوسٹس میں اکثر مبالغہ آرائی یا غیر حقیقی دعوے شامل ہوتے ہیں۔

ماہرین نے مشورہ دیا ہے کہ اگر کوئی دعویٰ بہت زیادہ حیران کن یا فوری حل پیش کرنے والا ہو تو اس پر فوری یقین کرنے کے بجائے تحقیق کی جائے۔ ساتھ ہی یہ بھی دیکھا جائے کہ معلومات دینے والا شخص واقعی متعلقہ شعبے کا ماہر ہے یا نہیں۔

مزید کہا گیا ہے کہ بہت سے اثرانداز افراد مالی فائدے کے لئے مختلف مصنوعات یا خدمات کی تشہیر بھی کرتے ہیں، اس لیے صارفین کو چاہیے کہ وہ ہر معلومات کو بغیر تصدیق قبول نہ کریں۔

ماہرین نے یہ بھی تجویز دی ہے کہ سوشل میڈیا استعمال کرتے وقت صارفین کو فعال رہنا چاہیے، یعنی صرف اسکرول کرنے کے بجائے معلومات کے ذرائع اور حقیقت کو جانچنے کی کوشش کرنی چاہیے۔

آخر میں ماہرین نے زور دیا کہ صحت سے متعلق کسی بھی مشورے پر عمل کرنے سے پہلے کسی مستند ڈاکٹر یا طبی ماہر سے ضرور مشورہ کیا جائے کیونکہ آن لائن معلومات ہر فرد کے لئے یکساں طور پر درست نہیں ہوتیں۔

اس خبر پر اپنی رائے کا اظہار کریں

اپنا تبصرہ بھیجیں