عدالت کا بڑا فیصلہ، ایئر فرانس اور ایئر بس 228 قیمتی جانوں کے مجرم قرار
اس سے قبل ایک نچلی عدالت نے دونوں کمپنیوں کو بری کردیا تھا
پیرس میں ہونے والے ایک تاریخی عدالتی فیصلے میں ایئر فرانس اور ایئربس کو 2009 کے تباہ کن فضائی حادثے میں غیر ارادی قتل کا ذمہ دار قرار دے دیا گیا ہے جس میں 228 افراد جان سے ہاتھ دھو بیٹھے تھے۔
پیرس اپیل کورٹ نے اپنے فیصلے میں قرار دیا کہ دونوں ادارے اس سانحے کے لیے مکمل اور مشترکہ طور پر ذمہ دار ہیں۔
عدالت نے ہر کمپنی پر 225 ہزار یورو جرمانہ بھی عائد کیا جو اس نوعیت کے مقدمات میں زیادہ سے زیادہ مالی سزا تصور کی جاتی ہے۔
یہ حادثہ 1 جون 2009 کو اس وقت پیش آیا جب ریو ڈی جنیرو سے پیرس جانے والی پرواز AF447 بحرِ اوقیانوس کے اوپر پرواز کے دوران کنٹرول کھو بیٹھی اور سمندر میں جاگری۔ اس طیارے میں سوار 216 مسافر اور 12 عملے کے ارکان میں سے کوئی بھی زندہ نہ بچ سکا۔
ہلاک ہونے والوں میں 72 فرانسیسی اور 58 برازیلی شہری شامل تھے جس نے اس سانحے کو عالمی سطح پر ایک بڑا ہوابازی حادثہ بنا دیا۔
کمپنیوں نے ہمیشہ اپنی صفائی میں مؤقف اپنایا کہ حادثہ انسانی غلطی یعنی پائلٹ کی کوتاہی کے باعث پیش آیا اور وہ کسی مجرمانہ ذمہ داری کی ذمہ دار نہیں۔ تاہم طویل قانونی جنگ کے بعد عدالت نے بالآخر انہیں ذمہ دار قرار دے دیا۔
دلچسپ بات یہ ہے کہ اس سے قبل ایک نچلی عدالت نے دونوں کمپنیوں کو بری کردیا تھا مگر اپیل کے بعد کیس دوبارہ کھولا گیا اور آٹھ ہفتوں پر مشتمل سماعت کے بعد یہ اہم فیصلہ سامنے آیا۔
یہ فیصلہ اگرچہ مالی لحاظ سے علامتی سمجھا جا رہا ہے لیکن ماہرین کے مطابق اس کے اثرات دونوں کمپنیوں کی ساکھ اور عالمی ہوا بازی انڈسٹری پر دیرپا ہو سکتے ہیں۔




