مصنوعی ذہانت سے پینکریاز کینسر کی قبل از وقت تشخیص ممکن
یہ بیماری اس لیے زیادہ خطرناک سمجھی جاتی ہے کیونکہ زیادہ تر کیسز اس وقت سامنے آتے ہیں جب کینسر جسم میں پھیل چکا ہوتا ہے۔
ایک نئی تحقیق میں یہ انکشاف ہوا ہے کہ جدید مصنوعی ذہانت کا نظام پینکریاز کے کینسر کی تشخیص عام علامات ظاہر ہونے سے کئی سال پہلے کرسکتا ہے جس سے اس مہلک بیماری کی بروقت شناخت ممکن ہوسکتی ہے۔
یہ نظام امریکا کے دو بڑے طبی اداروں کی مشترکہ تحقیق کا نتیجہ ہے جسے مریضوں کے سی ٹی اسکینز پر آزمایا گیا۔ تحقیق کے مطابق یہ ٹیکنالوجی کئی کیسز میں کینسر کی علامات اوسطاً 16 ماہ پہلے شناخت کرنے میں کامیاب رہی جب کہ بعض صورتوں میں یہ مدت دو سے تین سال تک بھی دیکھی گئی۔
ماہرین کے مطابق یہ بیماری اس لیے زیادہ خطرناک سمجھی جاتی ہے کیونکہ زیادہ تر کیسز اس وقت سامنے آتے ہیں جب کینسر جسم میں پھیل چکا ہوتا ہے جس کے بعد علاج مشکل ہوجاتا ہے۔
تحقیق میں استعمال کیے گئے نظام نے سیکڑوں سی ٹی اسکینز کا تجزیہ کیا اور انسانی آنکھ سے پوشیدہ باریک تبدیلیوں کو بھی شناخت کرنا سیکھا۔ یہ تبدیلیاں عام طور پر ٹشوز کی ساخت میں معمولی فرق کی صورت میں ظاہر ہوتی ہیں جو روایتی طریقے سے نظر نہیں آتیں۔
ٹیسٹنگ کے دوران جب اس نظام کو مختلف مریضوں کے اسکینز پر آزمایا گیا تو اس نے تقریباً تین چوتھائی کیسز میں درست طور پر خطرے کی نشاندہی کی جب کہ انسانی ماہرین کی کارکردگی اس سے کم رہی۔
اسی دوران کچھ صحت مند افراد کے اسکینز کو بھی غلط طور پر مشتبہ قرار دیا گیا جس کے باعث مزید جانچ کی ضرورت پیش آسکتی ہے۔
ماہرین کہتے ہیں کہ اس ٹیکنالوجی کی خاص بات یہ ہے کہ یہ وقت کے ساتھ مسلسل یکساں نتائج دیتی ہے، چاہے اسکین مختلف اوقات میں کیے گئے ہوں۔ اس سے ظاہر ہوتا ہے کہ یہ نظام ابتدائی مرحلے میں بیماری کی نشاندہی کے لیے مضبوط بنیاد فراہم کرسکتا ہے۔
تحقیق کرنے والے سائنسدانوں کا کہنا ہے کہ اگر اس ٹیکنالوجی کو مزید بہتر بنایا جائے اور بڑے پیمانے پر آزمایا جائے تو یہ طریقہ علاج میں ایک بڑی تبدیلی لاسکتا ہے کیونکہ بروقت تشخیص سے مریضوں کی جان بچانے کے امکانات بڑھ سکتے ہیں۔
ماہرین اب اس نظام کو مزید مختلف آبادیوں پر آزمانے اور اسے اسپتالوں کے روزمرہ طبی نظام میں شامل کرنے کے طریقے تلاش کررہے ہیں تاکہ اسے عملی طور پر استعمال کیا جاسکے۔




