1

معرکہ حق کی پہلی سالگرہ کی تقریب سے وزیر اعظم اور صدر مملکت کا خطاب، افواج پاکستان کو خراج تحسین

معرکہ حق کی پہلی سالگرہ کی تقریب سے وزیر اعظم اور صدر مملکت کا خطاب، افواج پاکستان کو خراج تحسین

تقریب میں اعلیٰ عسکری و سول قیادت، سفارتکاروں اور بڑی تعداد میں شہریوں نے شرکت کی

اسلام آباد کے پاکستان مونومنٹ میں “معرکۂ حق” کی کامیابی کا ایک سال مکمل ہونے پر خصوصی اور پروقار تقریب منعقد ہوئی، جس میں وزیراعظم شہباز شریف اور صدر مملکت آصف علی زرداری نے خطاب کرتے ہوئے قومی مؤقف، دفاعی حکمتِ عملی اور خطے کی صورتحال پر تفصیلی اظہار خیال کیا۔

وزیراعظم شہباز شریف نے اپنے خطاب کا آغاز اللہ رب العزت کے حضور سجدہ شکر ادا کرتے ہوئے کیا اور معرکۂ حق میں کامیابی کو قوم کے اتحاد اور افواج پاکستان کی قربانیوں کا نتیجہ قرار دیا۔ انہوں نے وطن کے دفاع میں جانوں کا نذرانہ پیش کرنے والوں کو خراج عقیدت پیش کیا۔

وزیراعظم نے کہا کہ پہلگام واقعے کو بنیاد بنا کر بھارت نے بے بنیاد الزامات لگائے جبکہ پاکستان نے ہمیشہ امن اور شفاف تحقیقات کی پیشکش کی۔ ان کے مطابق بھارت نے مثبت جواب دینے کے بجائے جارحیت کا راستہ اختیار کیا، جس کا افواج پاکستان نے بھرپور اور مؤثر جواب دیا۔

شہباز شریف نے کہا کہ “ہمارے شاہینوں اور فتح میزائل نے دشمن کے غرور کو خاک میں ملا دیا”، جبکہ پاکستان کا مؤقف عالمی سطح پر درست ثابت ہوا۔ انہوں نے 10 مئی کو “یومِ معرکۂ حق” کے طور پر منانے کا اعلان بھی کیا۔

وزیراعظم نے فیلڈ مارشل عاصم منیر، ایئرچیف مارشل ظہیر احمد بابر، نیول چیف اور تمام مسلح افواج کو خراج تحسین پیش کرتے ہوئے کہا کہ قوم اپنے محافظوں پر فخر کرتی ہے۔ انہوں نے مختلف ممالک اور عالمی رہنماؤں کا شکریہ بھی ادا کیا جنہوں نے سفارتی سطح پر کردار ادا کیا۔

صدر مملکت آصف علی زرداری نے اپنے خطاب میں کہا کہ 10 مئی ملکی تاریخ کا روشن باب ہے، جب پاکستان نے بھارتی جارحیت کا منہ توڑ جواب دیا۔ انہوں نے کہا کہ پاک فضائیہ کے شاہینوں نے دشمن پر اپنی برتری ثابت کی اور دفاعی صلاحیت کا لوہا منوایا۔

صدر مملکت نے بھارت کی جانب سے سندھ طاس معاہدے کی معطلی کو “آبی دہشت گردی” قرار دیتے ہوئے کہا کہ پانی پاکستان کے 24 کروڑ عوام کی لائف لائن ہے اور اس کے تحفظ پر کوئی سمجھوتہ نہیں ہوگا۔

انہوں نے کہا کہ پاکستان ہمیشہ امن کا داعی رہا ہے، تاہم قومی خودمختاری اور سلامتی پر کسی بھی حملے کا بھرپور جواب دیا جائے گا۔ صدر مملکت نے مسئلہ کشمیر کو خطے میں پائیدار امن کیلئے ناگزیر قرار دیتے ہوئے عالمی برادری سے کردار ادا کرنے کی اپیل بھی کی۔

تقریب میں اعلیٰ عسکری و سول قیادت، سفارتکاروں اور بڑی تعداد میں شہریوں نے شرکت کی، جبکہ ماحول قومی پرچموں، نعرۂ تکبیر اور ملی جوش و جذبے سے گونجتا رہا۔

اس خبر پر اپنی رائے کا اظہار کریں

اپنا تبصرہ بھیجیں