اسلام آباد: قومی آفات سے نمٹنے کے ادارے این ڈی ایم اے کے نیشنل ایمرجنسیز آپریشن سینٹر نے ممکنہ موسمی خطرات کے حوالے سے الرٹس جاری کردیے ہیں۔
این ڈی ایم اے کے مطابق موجودہ موسمی صورتحال تین سے چار ماہ قبل جاری کیے گئے متوقع موسمی جائزے کے عین مطابق ہے جب کہ اپریل سے جون تک کی موسمی صورتحال کا تفصیلی جائزہ بھی پہلے ہی جاری کیا جاچکا ہے۔
ادارے نے 5 مئی تک ملک کے مختلف علاقوں میں شدید گرمی کی لہر کا الرٹ جاری کیا ہے جس کے تحت سندھ، جنوبی پنجاب اور بلوچستان کے بعض علاقے شدید گرمی کی لپیٹ میں رہیں گے۔
الرٹ کے مطابق کراچی، حیدرآباد، سکھر، لاڑکانہ، جیکب آباد، بہاولپور، رحیم یار خان، ملتان اور تربت میں درجہ حرارت میں نمایاں اضافہ متوقع ہے جب کہ وسطی پنجاب اور خیبرپختونخوا کے بعض علاقوں میں بھی گرمی کی شدت بڑھنے کا امکان ہے۔
این ڈی ایم اے نے 24 سے 29 اپریل کے دوران ممکنہ موسمی صورتحال کا بھی جائزہ جاری کیا ہے جس کے مطابق پنجاب کے بالائی اور وسطی اضلاع میں آندھی اور گرج چمک کے ساتھ بارش کا امکان ہے۔
مری، اسلام آباد، راولپنڈی، اٹک، چکوال، جہلم، میانوالی، سرگودھا، گجرات، گوجرانوالہ، فیصل آباد، لاہور، ڈی جی خان اور ملتان میں بارش متوقع ہے جب کہ جنوبی پنجاب کے بیشتر علاقوں میں موسم گرم اور خشک رہنے کا امکان ہے۔
بلوچستان کے شمالی اضلاع کوئٹہ، زیارت، قلات اور خضدار میں تیز ہواؤں کے ساتھ بارش کا امکان ظاہر کیا گیا ہے جب کہ گوادر سمیت ساحلی علاقوں میں موسم خشک اور درجہ حرارت میں اضافہ متوقع ہے۔
سندھ بھر میں موسم گرم اور خشک رہنے کی پیش گوئی کی گئی ہے تاہم حیدرآباد، بدین اور مٹھی میں 24 اپریل کو ہلکی بارش اور تیز ہواؤں کا امکان ہے۔
خیبرپختونخوا کے متعدد اضلاع میں بھی 24، 25 اور 27 سے 29 اپریل کے دوران گرج چمک کے ساتھ بارش کی پیشگوئی کی گئی ہے جب کہ گلگت بلتستان اور آزاد کشمیر میں وقفے وقفے سے بارش متوقع ہے۔
این ڈی ایم اے نے خبردار کیا ہے کہ شدید گرمی کے باعث لو لگنے، پانی کی کمی اور دیگر صحت کے مسائل میں اضافہ ہوسکتا ہے، اس لیے شہری احتیاطی تدابیر اختیار کریں۔
ادارے نے عوام سے اپیل کی ہے کہ غیر ضروری طور پر دھوپ میں باہر نکلنے سے گریز کریں، زیادہ پانی کا استعمال کریں اور احتیاطی تدابیر اپنائیں۔
این ڈی ایم اے نے متعلقہ اداروں کو ہیٹ ویو پلان فعال کرنے، کولنگ سینٹرز قائم کرنے اور اسپتالوں کو الرٹ رہنے کی ہدایت بھی جاری کی ہے جب کہ شہریوں کو بروقت معلومات کے لیے آفیشل ایپ سے رہنمائی لینے کا مشورہ دیا گیا ہے۔




