پاکستان کی مغربی سرحد وایتی طور پر منظم سیکیورٹی تھیٹر سے نکل کر ایک غیر مستحکم اسٹریٹجک ماحول میں تبدیل ہو چکی ہے جس میں بیک وقت مختلف خطرات موجود ہیں جن میں، سرحدی کمزوری اور مسلسل شورش کا دوبارہ جنم لینا شامل ہے۔
جو معاملہ پہلے بین الاقوامی سرحد تک محدود ایک جغرافیائی مسئلہ سمجھا جاتا تھا اب وہ ایک باہم مربوط نظام میں تبدیل ہو چکا ہے جس میں باغی نیٹ ورکس، کابل ک حکومتی عمل دخل ، پاکستان کے سرحدی علاقوں میں داخلی عسکریت پسندی اور وسیع علاقائی رقابتیں مسلسل اور ایک دوسرے کو تقویت دینے والے انداز میں باہم تعامل کرتی ہیں۔ نتیجتاً اب یہ الگ تھلگ سرحدی واقعات کا سلسلہ نہیں رہا بلکہ کم سے درمیانی شدت کے مسلسل تنازع کی ایسی کیفیت بن چکی ہے جس میں دباؤ ایک ہی محاذ پر مرکوز ہونے کے بجائے مختلف مقامات اور فریقین میں تقسیم ہوتا ہے۔
اس ماحول کے مرکز میں سرحد پار عسکریت پسندوں کی پناہ گاہوں کا حل طلب مسئلہ بدستور موجود ہے۔ افغانستان کی سرزمین پر تحریک طالبان پاکستان کی موجودگی اور اس کی عملی آزادی عدم استحکام کی بنیادی وجہ ہے۔
پاکستان کے لیے یہ کوئی معمولی سیکیورٹی مسئلہ نہیں بلکہ اس کے داخلی سیکیورٹی نظام کی سالمیت کے لیے براہِ راست چیلنج ہے۔ افغان طالبان حکومت کے لیے یہ مسئلہ نظریاتی ہم آہنگی، تاریخی روابط اور ایک منتشر سیکیورٹی نظام میں اتحادی عسکری گروہوں پر مکمل کنٹرول کی حدود سے جڑا ہوا ہے۔ اس عدم مطابقت نے سرحد کو ایک ایسے علاقے میں بدل دیا ہے جہاں روک تھام سفارتی زبان سے کم اور محدود فوجی کارروائیوں، سرحد پار حملوں اور درست نشانہ بنانے کے ذریعے ظاہر کی جاتی ہے تاکہ کھلی جنگ کے بغیر قیمت عائد کی جا سکے۔
اسی تناظر میں پاکستان کا ردعمل بھی تبدیل ہوا ہے۔ پرانے دفاعی انداز اور اندرونی سطح پر محدود انسدادِ بغاوت کی حکمت عملی سے ہٹ کر اب ایک زیادہ جارحانہ طرزِ عمل اختیار کیا جا رہا ہے جس کا مقصد دباؤ کو سرحد پار منتقل کرنا ہے۔ یہ تبدیلی اس سوچ کی عکاسی کرتی ہے کہ پناہ گاہوں سے تقویت پانے والی شورش کو صرف ملکی حدود کے اندر ختم نہیں کیا جا سکتا۔ تاہم اگرچہ یہ حکمت عملی وقتی طور پر رکاوٹ ڈال سکتی ہے مگر یہ مکمل حل فراہم نہیں کرتی۔ یہ نیٹ ورکس کو متاثر کر سکتی ہے مگر بنیادی مسئلے کو ختم نہیں کرتی، جس کے باعث صورتحال وقفے وقفے سے شدت اختیار کرتی ہے مگر کسی حتمی نتیجے تک نہیں پہنچتی۔
یہ توازن مزید پیچیدہ ہو جاتا ہے کیونکہ اس میں شامل فریقین کی نوعیت مختلف ہے۔ پاکستان روایتی عسکری طاقت میں برتری رکھتا ہے، جیسے فضائی طاقت اور درست نشانہ بنانے کی صلاحیت۔ اس کے برعکس افغان طالبان برداشت اور نظریاتی یکجہتی پر مبنی حکمت عملی اپناتے ہیں جو دباؤ کو سہہ سکتی ہے۔ تحریک طالبان پاکستان ایک غیر ریاستی عنصر کے طور پر ان دونوں کے درمیان موجود ہے، جس کی بقا میدانِ جنگ کی طاقت سے زیادہ پناہ، نقل و حرکت اور بیانیے پر منحصر ہے۔ اس طرح یہ تنازع سیدھی لکیر میں بڑھنے کے بجائے ایک محدود دائرے میں اتار چڑھاؤ کا شکار رہتا ہے۔
اگر صورتحال صرف یہی تک محدود ہوتی تو اسے سرحدی عدم استحکام تک سمجھا جا سکتا تھا، مگر اب یہ پاکستان کے جنوب مغربی خطے، خصوصاً بلوچستان کی صورتحال سے بھی جڑی ہوئی ہے جہاں شورش نے نئی شدت اختیار کی ہے۔ بلوچ لبریشن آرمی اور بلوچ لبریشن فرنٹ جیسے گروہ تاریخی محرومیوں کے پس منظر میں سرگرم ہیں مگر اب نئے اسٹریٹجک حالات کے تحت جن میں بیرونی روابط، تنظیمی تقسیم اور علاقائی اثرات شامل ہیں۔ اگرچہ یہ تحریکیں باضابطہ طور پر تحریک طالبان پاکستان سے منسلک نہیں ہیں مگر ان کے اثرات میں ہم آہنگی بڑھ رہی ہے جس سے ریاست پر بیک وقت متعدد دباؤ پیدا ہو رہے ہیں۔
ان تمام عوامل کے ساتھ ہی ایران، امریکہ اور اسرائیل کے درمیان بڑھتی ہوئی کشیدگی کا علاقائی اثر بھی موجود ہے اگرچہ پاکستان براہِ راست شامل نہ بھی ہو، اس کے اثرات اہم ہیں۔ آبنائے ہرمز سے جڑی توانائی کی غیر یقینی صورتحال پہلے سے کمزور معیشت پر مزید دباؤ ڈال رہی ہے۔ فرقہ وارانہ حساسیت جو اب تک متوازن رہی، علاقائی کشیدگی میں دوبارہ ابھر سکتی ہے پاکستان ایران سرحد خصوصاً بلوچستان کے ذریعے ایک ایسا علاقہ بن جاتی ہے جہاں مقامی شورش اور عالمی سیاست ایک دوسرے سے جڑ جاتی ہیں۔
مجموعی طور پر یہ تمام پہلو ایک مربوط نظام تشکیل دیتے ہیں اس کا اصل مرکز داخلی استحکام ہے یعنی ریاست کی اپنی ہم آہنگی برقرار رکھنے، دور دراز علاقوں میں حکمرانی قائم رکھنے اور معاشی استحکام کو برقرار رکھنے کی صلاحیت۔ بیرونی اقدامات کی کامیابی اسی بات پر منحصر ہے کہ وہ داخلی استحکام کو کس حد تک مضبوط کرتے ہیں۔
موجودہ صورتحال کو تعطل یا توازن کے بجائے “منظم عدم استحکام” کے طور پر سمجھنا زیادہ مناسب ہے۔ تشدد ایک ایسی سطح پر برقرار ہے جو نہ مکمل معمول ہے اور نہ ہی مکمل جنگ کی طرف لے جاتی ہے سرحد پار حملے، شورش اور سفارتی کوششیں ایک ایسے چکر میں جاری ہیں جو وقتی طور پر شدت کم کرتے ہیں مگر بنیادی مسئلہ حل نہیں کرتے۔
آنے والے وقت میں غالب امکان یہی ہے کہ یہی صورتحال جاری رہے گی، جس میں وقفے وقفے سے کشیدگی، بلوچستان میں شورش اور علاقائی اثرات شامل ہوں گے۔ اصل خطرہ اس وقت پیدا ہو گا جب مختلف دباؤ ایک ساتھ جمع ہو جائیں، جیسے کوئی بڑا حملہ، داخلی شورش میں اضافہ اور علاقائی کشیدگی کا اثر۔ ایسی صورت میں ریاستی نظام پر شدید دباؤ پڑ سکتا ہے۔
اس صورتحال کا اسٹریٹجک نتیجہ یہ ہے کہ صرف فوجی اقدامات کافی نہیں اصل ضرورت داخلی استحکام، بہتر انٹیلیجنس، دور دراز علاقوں میں بہتر حکمرانی، معاشی مضبوطی اور متوازن سفارت کاری کی ہے اس ماحول میں استحکام کوئی مستقل حالت نہیں بلکہ ایک مسلسل عمل ہے جس میں دباؤ کو ختم کرنے کے بجائے قابو میں رکھا جاتا ہے۔




