زیادہ دیر بیٹھنا، صحت پر پڑنے والی منفی اثرات کم کرنے کا سادہ سا حل
تحقیق کے مطابق روزانہ 30 منٹ بیٹھنے کی جگہ حرکت کرنے سے قبل از وقت موت کا خطرہ تقریباً 2 فیصد کم ہو سکتا ہے
دنیا کی ایک بڑی آبادی دن کا زیادہ وقت بیٹھ کر گزارتی ہے جو کہ صحت کے لیے انتہائی خطرناک ہے تاہم ماہرین نے اب اس کا سادہ سا حل پیش کر دیا ہے۔
خیال رہے کہ باقاعدہ جسمانی سرگرمی نہ صرف ذہنی صحت کو بہتر بناتی ہے بلکہ بیماریوں کے خطرے کو کم اور زندگی کو طویل بھی کرتی ہے۔
ڈبلیو ایچ او کے مطابق بالغ افراد کو ہفتے میں کم از کم دوبار 150 منٹ کی معتدل سرگرمی جیسے تیز چہل قدمی یا ہلکی سائیکلنگ یا 75 منٹ کی دوڑنے جیسی سخت سرگرمی کرنا ضروری ہے۔
تاہم دنیا بھر میں صرف 73 فیصد افراد ہی ان ہدایات پر عمل کرتے ہیں جبکہ کئی لوگ زیادہ تر وقت بیٹھے رہتے ہیں۔
یہ بھی پڑھیں: بہتر صحت کے لیے دن بھر میں کتنا بیٹھنا، کھڑے ہونا، چلنا اور سونا چاہیے؟
زیادہ دیر بیٹھنے سے جسم میں کئی منفی تبدیلیاں جنم لیتی ہیں ان میں میٹابولزم کا سست ہونا، خون میں چکنائی ٹرائی گلیسرائیڈ بڑھنا، چربی کو توڑنے والا انزائم کم ہونا شامل ہے۔
اسی طرح انسولین اور گلوکوز کا نظام بھی متاثر ہوتا ہے جس سےٹائپ ٹو ذیابیطس کا خطرہ بڑھ جاتا ہے پٹھے کمزور ہونے لگتے ہیں، ویریکوز وینز اور خون کے لوتھڑے بننے کا خطرہ بڑھتا ہے طویل عرصے میں یہ عادت دل کی بیماری، کینسر، ڈیمنشیا اور قبل از وقت موت کے خطرات بھی بڑھا سکتی ہے۔
اگر آپ ورزش کرتے ہیں تو یہ بہتر ہے بہ نسبت اس کے کہ آپ بالکل غیر فعال ہوں لیکن اگر آپ بہت زیادہ وقت بیٹھے رہتے ہیں تو پھر بھی خطرہ برقرار رہتا ہے خاص طور پر اگر آپ مجموعی طور پر کم متحرک ہوں۔
ماہرین کے مطابق ہر 20–30 منٹ بعد کم از کم 2 منٹ حرکت کریں جیسے ہلکی واک، جمپنگ جیکس، اسکواٹس وغیرہ۔
روزانہ کے معمول میں جسمانی حرکت کو بڑھائیں فون پر چلتے ہوئے گفتگو کریں، واکنگ میٹنگز کریں تحقیق کے مطابق روزانہ 30 منٹ بیٹھنے کی جگہ حرکت کرنے سے قبل از وقت موت کا خطرہ تقریباً 2 فیصد کم ہو سکتا ہے۔
صرف کھڑے رہنا مکمل حل نہیں ہے زیادہ دیر کھڑے رہنے سے بھی تھکن، ویریکوز وینز اور دیگر مسائل ہو سکتے ہیں۔ اصل فائدہ حرکت میں ہے چاہے وہ ہلکی ہی کیوں نہ ہو۔




