گرینڈ حیات بی این پی لیز کیس؛ کچھ اہم حقائق و قانونی حیثیت
سی ڈی اے نے 15 فیصد پیمنٹ پر جگہ کمپنی کو تعمیر کے لیے دے دی لیکن اس کے بعد کمپنی نے کوئی رقم نہیں دی
سی ڈی اے نے 2005 میں 13.5 ایکڑ زمین ایک فائیو اسٹار ہوٹل کے لیے آلاٹ کی اور بی پی این کمپنی نے 4.8 ارب روپے میں یہ لیز جیتی۔
سی ڈی اے نے 15 فیصد پیمنٹ پر جگہ کمپنی کو تعمیر کے لیے دے دی لیکن اس کے بعد کمپنی نے کوئی رقم نہیں دی اور ری شیڈولنگ کا ایک سلسلہ شروع ہوا۔
کیس عدالت میں گیا اور 2019 میں سپریم کورٹ نے لیز بحالی کے لیے بی پی این کو 17.5 ارب ادا کرنے کا حکم دیا لیکن کمپنی نے ابھی تک صرف 2.9 ارب جمع کروایا اور 14.5 ارب کی نادہندہ ہے اسی لیے 2023 میں ان کی لیز ختم کر دی گئی۔
پیمنٹ تو الگ بی پی این نے معاہدے کے برعکس یہاں پر 263 فلیٹس کی تعمیر کی سی ڈی اے نے فلیٹس کے باہر نوٹس بھی آویزاں کیے کہ اس متناضہ بلڈنگ میں فلیٹس خریدنے والے اشخاص انجام کے خود ذمہ دار ہوں گے لیکن پھر بھی فلیٹس کی خرید و فروخت ہوتی رہی۔
اہم بات یہ کہ 263 فلیٹس میں سے صرف 69 فلیٹس میں لوگ رہ رہے ہیں جبکہ باقی 194 فلیٹس پراپرٹی انوسٹرز خرید و فروخت کر رہے ہیں 69 فلیٹس میں بھی صرف 15 فیصد میں اصل رہائشی ہیں جبکہ 85 فیصد ایئر بی این پی یعنی ایک دن کرائے کے لیے استعمال ہو رہے ہیں۔
اسلام آباد ہائیکورٹ کے حکم پر سی ڈی اے کا عملہ بمع اسلام آباد پولیس ان فلیٹس پر گیا اور تمام متعلقہ بندوں کو عدالتی حکم کے مطابق 7 دن کا نوٹس دیا گیا کہ آپ فلیٹ خالی کریں۔
گو کہ سی ڈی اے نے بہت پہلے انجام کی ذمہ داری کا نوٹس لگایا تھا لیکن پھر بھی حکومت نے بڑا دل کرتے ہوئے ان کو اوریجنل قیمت ادا کرنے کا فیصلہ کیا ہے۔




